فرعون نےموسیٰؑ کو قتل کرنے کا فیصلہ کب کیا؟
فرعون نے موسیٰؑ کو قتل کرنے کا فیصلہ اُس وقت کیا جب اُنہوں نے توحید کی دعوت کھلے عام پیش
فرعون نے موسیٰؑ کو قتل کرنے کا فیصلہ اُس وقت کیا جب اُنہوں نے توحید کی دعوت کھلے عام پیش
ہودؑ نے اپنی قوم عاد کو اللہ کے عذابِ عظیم سے ڈرایا تھا وہ آندھی جو ان کے گھمنڈ، کفر،
قومِ عاد کی ہلاکت کو قرآن نے ریحِ صَرصَر (یعنی سخت، تیز، چیختی ہوئی ہوا) کے نام سے یاد کیا
قومِ عاد کو اللہ نے طاقت، جسمانی قوت اور بڑے بڑے محلات عطا کیے تھے، مگر انہوں نے تکبر کیا
قرآن میں نوحؑ کے بیٹے کا قول یوں بیان ہوا ہے: قَالَ سَاٰوِيْٓ اِلٰي جَبَلٍ يَّعْصِمُنِيْ مِنَ الْمَاۗءِ ۭ قَالَ
اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کے غار میں سورج کے جھکنے کا منظر یوں بیان فرمایا وَتَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ
جب موسیٰؑ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اللہ نے تمہارے لیے مقدس سرزمین (ارضِ مقدسہ) مقرر کی ہے،
بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ ہم ایک ہی طرح کا کھانا (منّ و سلویٰ) ہر
قومِ مدین نے شعیبؑ کو جھٹلایا کیونکہ ان کی دعوت توحید، دیانت اور انصاف کے خلاف ان کے مفادات متاثر
شعیبؑ کو اللہ تعالیٰ نے قومِ مدین کی طرف بھیجا جو تجارت میں ناپ تول میں کمی اور مالی خیانت