قومِ عاد کی ہلاکت کو قرآن نے کس نام سے یاد کیا؟

قومِ عاد کی ہلاکت کو قرآن نے ریحِ صَرصَر (یعنی سخت، تیز، چیختی ہوئی ہوا) کے نام سے یاد کیا ہے، جو ان پر اللہ کے عذاب کے طور پر بھیجی گئی۔ یہ ایسی آندھی تھی جو ان کے مضبوط جسموں اور اونچے محلات کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک گئی۔

فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًۭا صَرْصَرًۭا فِىٓ أَيَّامٍۢ نَّحِسَاتٍۢ لِّنُذِيقَهُمْ عَذَابَ ٱلْخِزْىِ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ ٱلْءَاخِرَةِ أَخْزَىٰ ۖ وَهُمْ لَا يُنصَرُونَ

پھر ہم نے ان پر تیز و شوریدہ ہوا بھیجی، نحوست والے دنوں میں، تاکہ ہم انہیں دنیا کی زندگی میں رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھائیں، اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ رسوا کرنے والا ہے۔
(فصلت: 16)
یہ عذاب ریحِ صرصر کہلایا یعنی وہ سرد، چیختی، اور ہلاک کر دینے والی ہوا جو اللہ کے حکم سے چلی اور ہر چیز کو فنا کر گئی۔

نبی ﷺ نے فرمایا

نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ
مجھے مشرقی ہوا سے مدد دی گئی، اور عاد کی قوم مغربی ہوا سے ہلاک کی گئی۔
(صحیح بخاری، حدیث 1035)

یہی یاد دہانی ہے کہ اللہ کی قدرت کے سامنے کوئی قوم، سلطنت یا طاقت باقی نہیں رہتی؛ نجات صرف ایمان، توحید، اور انکساری میں ہے۔

تلاش کریں