قومِ عاد کے عذاب کی مدت کتنے دن تھی؟

قومِ عاد کو اللہ نے طاقت، جسمانی قوت اور بڑے بڑے محلات عطا کیے تھے، مگر انہوں نے تکبر کیا اور اللہ کے نبی ہودؑ کی نصیحت کو ٹھکرا دیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ کوئی ان پر غالب نہیں آ سکتا۔ اسی غرور کے بدلے اللہ نے ان پر ایسا عذاب نازل کیا جس نے ان کے گھمنڈ کو مٹی میں ملا دیا۔

سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ ۙ حُسُوْمًا ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِيْهَا صَرْعٰى ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ
اللہ نے اس (تباہ کن ہوا) کو ان پر سات راتیں اور آٹھ دن تک مسلسل مسلط رکھا، تو تُو دیکھتا کہ وہ یوں گرے پڑے ہیں جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے۔
(الحاقہ: 7)

یہ ہوا رحمت نہیں بلکہ عذاب تھی، جو مسلسل سات رات اور آٹھ دن ان پر چلتی رہی۔ وہ سب برباد ہو گئے، تاکہ قیامت تک انسان یہ سمجھ لے کہ طاقت، عمارت، اور غرور انسان کو نہیں بچا سکتے، صرف اللہ کی اطاعت اور توحید ہی نجات کا ذریعہ ہے۔

تلاش کریں