امام احمد بن حنبل صاحب کو محدثین صادق اور متقی کہتے ہیں؟

:سوال

احمد بن حنبل کے بارے میں محدثین نے جو آرا پیش کی ہیں، مثلاً کہ وہ ثقہ تھے، ثبت تھے، مصدق تھے، صدوق تھے، متقی تھے وغیرہ۔ تو کیا جن حدیث محدثین نے ان کے بارے میں اچھے خیالات کا اظہار کیا ہے، ان پر کسی خطـ کسی قسم کا فتویٰ لگایا جا سکتا ہے؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

ان پر فتویٰ لگانے کا کیا سوال ہے؟ دیکھیے! احمد بن حنبل صاحب کا جو عقیدہ آیا ہے آپ کے سامنے، اس عقیدے پر، ان کی اس عقیدے کی خبر کی وجہ سے فتویٰ لگاـ لگایا گیا ہے۔

​باقی یہ ہے کہ آج تک وہ جو ہے عقیدہ ان کا چھپ رہا ہے، کتاب الصلاۃ میں جو احمد احمد بن حنبل سے منسوب کر کے چھاپی جا رہی ہے اور حامد الفقی نے، مصری عالم نے وہ ان کا عقیدہ احمد طبقاتِ حنابلہ کے حوالے سے اس میں شامل کیا ہے۔ برابر چھپ رہی ہیں وہ کتابیں۔ تو اس میں کوئی شک و شبہے والی بات ہی نہیں ہے۔ یہ چھاپنے والے اس سے پوری طرح متفق ہیں۔ اب ان کے اوپر ذمہ داری ہے کہ انہوں نے اگر یہ غلطی کام کیا ہے تو وہ ذمہ دار ہیں، ہم تو نہیں بہرحال۔ قرآن کے خلاف ان کا عقیدہ ہمارے سامنے آیا ہے کہ وہ جھوٹی روایت انہوں نے جو اپنی مسند میں بیان کی ہے، جو نسائی نے بھی بیان کی ہے لیکن نسائی نے تو اس کا اپنا عقیدہ نہیں بنایا امام نسائی نے، انہوں نے اس کو اپنا عقیدہ بنا لیا ہے۔ تو اس لیے ان کے اوپر یہ فتویٰ لگایا، باقی محدثین کو ان کے عقیدے کے بارے میں تو معلوم نہیں ہے اس زمانے میں، اتنا زیادہ یہ ذرائع ابلاغ نہیں تھے، تو کیا معلوم؟ یہ تو انہوں نے اپنا عقیدہ جو بیان کیا ہے، مسدد کو خط لکھا ہے جب بیان کیا ہے۔ مسدد نے آخری دور میں ان سے پوچھا تھا جب بہت سے مسئلے اٹھے ہوئے تھے، بہت سے شوشے چھوٹے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ اـ اپنے عرش سے آسمانِ دنیا پر، چوتھے آسمان پر اترتا ہے تو کیا عرش خالی ہو جاتا ہے؟ اسی طرح قرآن خلق ہے، خالق ہے، مخلوق ہے، اس قسم کے مسائل اٹھ رہے تھے تو انہوں نے مسدد جو ان کے شاگرد تھے، انہوں نے ان کو خط لکھا۔ مسدد خود ثقہ راوی ہیں، امام بخاری نے ان سے بے شمار روایتیں کی ہیں۔ لیکن وہ ان کے شاگرد تھے تو ان کو لکھا کہ آج کل ایسے عقائد کی خرابیاں ہو رہی ہیں، ایمان کے اندر شوشے اٹھ رہے ہیں تو آپ مجھے صحیح موقف جو ہے وہ لکھ کے بھیج دیجیے۔ تو جو ان کے شاگرد تھے اس وقت جو ان کے قریب تھے، انہوں نے ان سے کہا کہ یہ خط ہے تو انہوں نے لکھ کے دے دیا۔ یہ اس نے ابن حجر عسقلانی نے اپنے اس میں تہذیب التہذیب میں اس کا ذکر کیا ہے، اسی لحاظ سے۔

تلاش کریں