کچھ ذمہ دار اپنے لڑکوں کی شادی مشرکوں میں کرتے ہیں ان سے کیسے محبت ہونی چاہیے؟

:سوال

​​​​ اگر کوئی مسلمان مسلم لڑکیوں کو چھوڑ کر مشرکوں میں شادی کرے، اور ولیمے میں کسی مسلمان کو نہ بلائے، اور مشرکوں کو بھی ولیمہ کھلا دے تو یہ کیسا مسلمان ہے؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

بھئی اس کے ایمان میں شک کرنا چاہیے پھر، اس کو بلا کے اس سے جواب طلبی کی جائے، اور تھوڑی سی اس پہ پابندی لگائی جائے کہ اگر وہ ایک تو مسلم لڑکیوں کو چھوڑ کر مشرکوں میں نکاح کر رہا ہے، یہ اس کی زیادتی ہے اور یہ یہ گویا ایمان ایمان سے متضاد چیز ہے یہ۔ اور دوسرے یہ ولیمے میں اپنے مومن بھائیوں کو نہیں بلاتا تو ایسا ولیمہ کیا ولیمہ ہے؟ پھر تو یہ دنیا داری ہو گئی ہے۔ تو یہ ایسے آدمی کو پھر اس کے ساتھ جو ہے ذرا تھوڑا سا سختی کا ہونا چاہیے، کچھ تادیبی کارروائی ہونی چاہیے ہماری نظم کی طرف سے ایسے آدمی کے خلاف۔

​یعنی اس کے ایمان والوں سے نہ ایمان سے محبت ہے، ایمان سے محبت ہوتی ہے تو ایمان والے مومن بھائیوں سے محبت ہوتی ہے، اور وہ اپنے دعوت میں اپنے مومن بھائیوں کو ہی بلاتا ہے۔ انہی کے لیے ولیمہ ہوتا ہے عام طور سے ہمارے لیے، اسی طرح اپ اپنے مسجد میں، گھروں میں وہاں کر لیتے ہیں تاکہ ہمارے مومن بھائی آئیں، پروگرام میں اعلان کر دیا جاتا ہے اور سب شریک ہوتے ہیں اس میں۔

تلاش کریں