:سوال
اگر کوئی مجبور مومن پرافٹ (سود)، یہ ضروریات کی کوئی چیز ہے، ہے، کیا وہ سود کے جرم میں پورا مجرم ہے یا نہیں؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
دیکھیے، کوئی مجبور نہیں ہے سود لینے پر۔ کوئی شخص اگر بینک میں اپنا پیسہ رکھنے پر مجبور ہے تو کرنٹ اکاؤنٹ رکھے۔ یہاں کرنٹ اکاؤنٹ ہوتا ہے، باہـ باہر بھی امریکہ وغیرہ میں بھی اس کے متبادل چیکنگ اکاؤنٹ وغیرہ ہوتے ہیں کرنٹ اکاؤنٹ، تو اس میں یہ ضرور ہے کہ ایسے کرنٹ اکاؤنٹس کے اوپر اگر ایک مقررہ رقم سے کم ہو وہ رقم، تو وہ اس پہ سروس چارجز لیتے ہیں، کچھ کاٹ لیا کرتے ہیں۔ اگر وہ مقررہ رقم ہے یا اس سے زیادہ ہے تو کچھ نہیں لیا جاتا، نہ کچھ دیتے ہیں آپ کو نہ لیتے ہیں اور جتنے چاہیں آپ جب چاہیں کیش اپنا کراـ چیک کیش کرا سکتے ہیں۔ تو کرنٹ اکاؤنٹ رکھیں، کوئی مجبوری نہیں ہے کہ آپ یہ، یہ پرافٹ تو ہوتا ہی نہیں ہے، یہ سود ہوتا ہے، ربٰوا جس کو کہا جاتا ہے اور یہ بالکل حرام ہے اور جو ربٰوا لینے پر مصر ہو تو اللہ تعالی نے، اللہ کے رسول کا اس کے خلاف اللہ اور اس کے رسول کا اعلانِ جنگ ہے۔ تو ہمیں اس سے ایسی نفرت ہونی چاہیے، کوئی اس کے لیے گنجائش نہیں ہے اسلام میں۔ جو اس کو اسلامی بینک اور یہ سب کہتے ہیں، یہ سب دھوکہ اور فراڈ ہے، کوئی اس قسم کی چیز نہیں ہے۔ یہ یہود، یہودیوں سے متاثر ہو گئے ہیں، ان کا شکار ہو گئے ہیں اور ان کے اس شیطانی نظام کے جال میں پھنس گئے ہیں بس۔ دنیا پرستی آ گئی ہے، مادہ پرستی آ گئی ہے کہ اس طرح قرضے لو، گاڑیاں خریدو، اشیائے تعیش خریدو اور آسانی سے آپ قسطیں دیتے رہیں، یہ نہیں معلوم کہ آپ کو جتنی قیمت ہے اس کا دوڑا دینا پڑتا ہے۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ اس سے انسان کو پوری طرح سے اس سے بیزاری اور نفرت ہو اور قطعاً اس میں ملوث نہ کرے اپنے آپ کو۔