:سوال
اگر بیوی خاوند سے پہلے ایمان لے آئے، تو وہ کتنے عرصے بعد خاوند سے جدا ہوگی؟ جبکہ اس کا خاوند دعوت ملنے کے بعد ایمان تو نہیں لاتا لیکن اسلام میں بیوی کے لیے رکاوٹ نہیں ہے، قرآن و حدیث سے مکمل وضاحت کریں۔
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
اس میں تو یہی ہمیں ملتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جو خواتین ایسی تھیں، ایمان لے آئی تھیں تو انہوں نے رفتہ رفتہ اپنے شوہروں سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور انہوں نے ہجرت بھی کر لی تھی، مدینہ چلی گئی تھیں، چنانچہ سورہ ممتحنہ جو ہے وہ ایسی خواتین کے بارے میں ہے، نبی علیہ السلام نے ان سے بیعت کر لی، ان سے عہد لے لیا اور اس کے بعد وہاں کے مدینے کے مومن بھائیوں نے ان کے ساتھ نکاح وغیرہ بھی کیے اور ان کے جو مہر وغیرہ تھے وہ بھی ادا کیے۔ تو اس لیے ہماری خواتین کو یہاں یہی چاہیے ایمان لانے کے بعد وہ کوشش کریں کہ وہ شوہر ان کا ایمان لے آئے تاکہ علیحدگی نہ ہو، اس میں دشواری ہوتی ہے، جس کے بچے ہوں، اولاد ہو تو اور بھی زیادہ دشواری ہوتی ہے تو کوشش کریں شوہر ایمان لے آئے۔ شوہر کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے، اچھے انداز میں اس کو سمجھائے اور دوسرے اس کے رشتہ دار جو ہیں، بھائی وغیرہ وہ بھی اس کی اس سلسلے میں مدد کریں اور اس کو سمجھائیں۔ اگر وہ ایمان لے آتا ہے، تو ایک وقت مقرر کر دیں، اس میں پھر اگر ایمان لانے کے لیے کچھ تھوڑا سا امید ہو، امید افزا معاملہ ہو تو کوشش کریں اور اگر امید نہ ہو تو پھر ایک وقت مقرر کر کے اس کو کہہ دیں کہ بھئی اس کے بعد ہم علیحدگی اختیار کریں گے۔ وہ اپنے میکے ماکے کے پاس چلی جائے، بھائیوں کے پاس چلی جائے اور اس کو چھوڑ دے تو شاید اس کے بعد اس کو احساس ہو، تو کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اس سے دیر و زود علیحدگی اختیار کی جائے اگر وہ ایمان نہ لانے میں بضد ہے، اپنے کفر پر جما رہنا چاہتا ہے تو اس سے علیحدگی اختیار کرنا چاہیے۔
اگرچہ وہ رکاوٹ نہیں بنتا ہے، یہ تو خیر اچھی بات ہے، اس میں آسانی ہے، پھر بیوی کو آسانی ہے کہ وہ اس کو دعوت بھی دے سکتی ہے قرآن و حدیث سے اور اس کو اس بات کی تلقین کر سکتی ہے، اس کو جہاں تک بھی ہو راغب کرنے کی کوشش کرے۔