:سوال
شیئر کی خرید و فروخت کے متعلق قرآن و سنت سے روشنی ڈالیں۔
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
شیئر جو ہوتے ہیں یہ، کسی کاروبار میں شیئر ہوتا ہے، شیئر کے معنی حصے دار بننا کسی میں، شرکت کرنا۔ تو اگر دو باتیں اس میں رکھنی چاہئیں، پیشِ نظر۔
ایک تو یہ کہ ہم ایمان والوں کے ساتھ اپنے کاروبار میں شرکت کریں تو زیادہ بہتر ہے، تاکہ ہمارا باہمی آپس میں خیالات میں، سوچ میں ہنگامی رہے، ہم آہنگی رہے اور صلوٰۃ وغیرہ بھی ہماری جماعت کے ساتھ ایک ساتھ ہو سکے، محبت رہے ہماری اور کسی طرح شیطان کا بھی وسوسہ اندازی کے ذریعے سے کام کو بگاڑنے کی کوشش نہ کرے۔ دوسرے یہ کہ، تو یہ ہمارا کاروبار میں شرکت اس طرح سے کوشش ہونی چاہیے۔
دوسری بات یہ کہ جب بھی ہم شراکت کریں، حصے میں کاروبار کریں تو اس میں معاہدہ وغیرہ کر لیا کریں۔ اچھا جو عام کاروبار میں شیئر لیا جاتا ہے، بینکوں کے، مختلف اداروں کے، تو اس میں عام طور سے سود کی آمیزش ہوتی ہے۔ تو اگر ایسے کسی کاروبار کے حصے دار بنیں گے آپ، یہاں سود کی آمیزش ہے، سودی کاروبار ہے، سود کے اوپر مبنی ہے، سودی لین دین ہوتا ہے۔ تو اس کے منافع میں آپ کی بھی معاش میں سود شامل ہو جائے گا۔ آپ کی معاش پھر حرام ہو جائے گی، پھر آپ کی عبادت قبول نہیں ہو، ہوگی۔
تو اس لیے ایسے شیئر سے ہم منع کرتے ہیں، ایسے شیئر جو ہے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ چاہے کتنا ہی زیادہ منافع ظاہری نظر آئے، وہ خسارہ ہی خسارہ ہے۔ دنیا کا منافع جو حرام کے اوپر مبنی ہو، جس سے منع کیا گیا ہو، ممنوعات پر مبنی ہو، تو وہ منافع خسارہ ہے، وہ منافع نہیں ہے، اس سے بچنا چاہیے۔
سود لفظ جو فارسی کا لفظ ہے، اس کے معنی بھی منافع ہی کے ہیں، سود۔ اسی لیے اس کی طرف رغبت دلانے کے لیے اس کو کہا جاتا ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بینکوں نے سودی نظام کو جو اس سے پہلے سیونگ اکاؤنٹ ہوتا تھا، اس کو نفع نقصان والا پی ایل ایس اکاؤنٹ کر دیا، پرافٹ اینڈ لاس اکاؤنٹ۔ یہ پرافٹ اینڈ لاس نہیں ہے، یہ سودی کاروبار ہے اور اس میں نقصان، نقصان ہے اس میں فائدہ نہیں ہے، خسارہ ہی خسارہ ہے یہ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم سود کو، ہم سود کو ختم کرتے ہیں۔ سود جو ہے، یہ کاروبار نہیں ہے اس میں نقصان ہے۔ یہ گھٹتا ہے، ہم اس کو گھٹاتے ہیں، بڑھاتے نہیں ہیں۔ تو سودی کاروبار سے کبھی فائدہ نہیں ہوتا ہے، انجامِ کار نقصان ہوتا ہے، دنیا میں بھی نقصان ہوتا ہے اس کا۔ سود لینے والا، سودی کاروبار کرنے والا کبھی خوشحال اور سکون سے نہیں رہتا، پریشان حال رہتا ہے وہ۔