اگر کوئی مومن گھر سے نکال دیا جائے تو تنظیم کو اس کے معاش کا بندوبست کرنا چاہیے؟

:سوال

اگر کوئی ساتھی اپنے، پورے خاندان میں اکیلا مؤمن ہے اور اسے گھر والوں نے اس کو گھر سے نکال دیا ہے، تو جماعت کو چاہیے کہ اس کی نوکری وغیرہ کا بندوبست کرے۔

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

ہم پوری کوشش کرتے ہیں بھائی اس بات کی، جب ایسا کوئی کیس ہوتا ہے ہمارا، ہم اس کی، معاش کا اہتمام پورا کرتے ہیں۔ اس کو نوکری وغیرہ، ملازمت کا، کام کا، اس کے لیے مزدوری وغیرہ کا، جیسی بھی ان کی صلاحیت ہوتی ہے اس کے مطابق کوشش کی جاتی ہے۔ ہمارے ہر جگہ، ہر صوبے میں، ہر مرکز میں اس قسم کی کوشش کی جاتی ہے اور ہم ساتھیوں کو برابر اس بات کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔

​میں نے پہلے حدیث سنائی تھی آپ کو، تو ہم ساتھیوں کو برابر، کراچی میں تو اس بات کا ہمیں بہت موقع ملتا ہے کیونکہ ہر ہفتے ہمارا اجتماع ہوتا ہے۔ ہر ہفتے میں کئی مرتبہ، دو مرتبہ تو مرکزی اجتماع ہوتے ہیں ہمارے، جمعرات اور اتوار کو، ہفتے میں دو مرتبہ۔ مرکزی اجتماع جس میں پورے کراچی کے لوگوں کی طرف سے نمائندگی کی جاتی ہے، شرکت کی جاتی ہے، ناظمین آتے ہیں۔ پھر جمعرات کو ہمارا جو مرکزی پروگرام ہوتا ہے اس میں ناظمین آتے ہیں، تو یہ تلقین، یہ وعظ و نصیحت ان کو برابر کی جاتی ہے۔

​بہرحال، ہم کمزور لوگ ہیں، وہ معیار ہمارا نہیں ہے، نہ ہم پوری طرح سے صحابہ کرام کے معیار پر اترتے ہیں پورے، لیکن معیار ہمارے سامنے وہی رہتا ہے اور انہی کی باتیں احادیث کی دہرائی جاتی ہیں لوگوں کو بتائی جاتی ہیں کہ ہمیں یہی اوصاف اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ ہمارے باہمی تعلقات ایسے ہی ہونے چاہئیں۔ سورہ حجرات میں جیسا بتایا گیا ہے، وہی ہمارے اندر مثبت اچھے اوصاف ہوں اور ان برائیوں سے ہم بچیں جن سے منع کیا گیا ہے سورہ حجرات میں، غیبت سے، برے نام دینے سے، تجسس سے، اور کسی کا اپنے بھائیوں کا تمسخر کرنے سے ان چیزوں سے۔ تو ان کو سب سے، تو یہ تمام چیزیں رہتی ہیں ایسے منفی طریقے سے بچنا چاہیے اور اچھے اوصاف پیدا کرنے کی اور اچھے باہمی سلوک کی، تاکہ بھائیوں میں محبت بڑھے اور شیطان کو موقع نہ ملے اس میں رخنہ ڈالنے کا۔ 

تلاش کریں