:سوال
مومن کو مومن کے خیال رکھنے کے بارے میں تاکید فرمائیں
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
حدیث میں آیا ہے کہ مسلمان مؤمن، مسلمان مسلمان پر مؤمن کا حق ہے کہ جب وہ بیمار ہو تو دوسرا مؤمن اس کی خبر گیری کرے۔ ہمارے ساتھیوں میں اس کی بہت کمی ہے، برائے مہربانی ساتھیوں کو تاکید کریں تاکہ ساتھی اس سے، اپنے بیمار ساتھیوں کی عیادت کیا کریں۔ یہ بہت ضروری ہے بھائی، میں نے عرض کیا کہ ایسا ضرور کرنا چاہیے۔ یہ تو ہم مشرکوں کی بھی عیادت کریں تو اچھا ہے، اس کی بھی گنجائش ہے، اللہ تعالیٰ شاید ان کو ایمان کی توفیق دے بیماری میں دعوت دینے کی وجہ سے۔ اور کچھ نہیں تو کم سے کم ان کے دلوں میں نرمی پیدا ہو جاتی ہے عیادت سے، مزاج پرسی سے کہ یہ بااخلاق آدمی ہیں، ان کا اخلاق اچھا ہے، تو اس سے نرمی پیدا ہوتی ہے اور اس سے راہ کھلتی ہے ایمان کی دعوت اور اس کی قبولیت کی۔
تو اس لیے عیادت کرنا چاہیے، مزاج پرسی کرنا چاہیے اور اپنے مؤمن بھائیوں کو تو اپنا بالکل بھائی سمجھتے ہوئے ان کی خدمت بھی کرنا چاہیے اور ان کی ضروریات کیسی بھی ضروریات ہوں، بیماری کا معاملہ ہو یا کوئی اور بھی ضرورت ہو، اس صورت کو پورا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ من کان فی حاجۃ اخیہ کان اللہ فی حاجتہ جو اپنے مؤمن بھائی کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی ضروریات پوری کرتا ہے، اس کی حاجت پوری کرتا ہے۔
اس معاملے میں کوتاہی اگر آپ کریں گے تو اس سے اچھا اثر نہیں پڑے گا، اچھا تاثر پیدا نہیں ہوگا اور جماعت کے لیے بدنامی کا سبب بنے گا، لوگوں کے اعتراض کے لیے راہ کھل جائے گی۔ یہ ہماری ایمان والوں کی جماعت ہے، ایمان کی دعوت کا کام کر رہی ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کو خیرِ، خیرِ امت کے لقب سے نوازا ہے۔ تو ہمیں ان اوصاف کا حامل ہونا چاہیے تاکہ ہمیں اس کے اہل ہوں اور ہمیں قلبی اطمینان ہو کہ ہمارے اندر ایسی کوتاہیاں نہیں ہیں جو ایمان والوں میں، داعیانِ حق میں ہونی چاہئیں۔ جو بھی ایمان کی دعوت قبول کر لیتا ہے وہ داعیِ حق بن جاتا ہے، چاہے انفرادی طور سے دعوت دے رہا ہو یا اجتماعی طور سے علم والا دعوت دے رہا ہو، بہرحال وہ داعیِ حق ہوتا ہے اور داعیِ حق کے اندر وہ صفات ہونا چاہیے۔ ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ وعمل صالحا وقال اننی من المسلمین تو جو مسلم ہوتے ہیں ان کے اندر یہ اخلاق، اعلیٰ اوصاف ہوتے ہیں اور پھر وہ تمام حلم و انابت کی صفات ان کے اندر ہوتی ہیں۔
بیماروں کی عیادت کرنا چاہیے، مزاج پرسی کرنی چاہیے اپنے مؤمن بھائی کی اور مؤمنوں کے لیے مؤمنوں کے دلوں میں سچی خیر خواہی، ہمدردی اور نیک خواہشات ہونی چاہئیں برابر۔ کہ وہ اگر ان کو سلام کریں تو اس جذبے کے ساتھ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو سلامتی عطا فرمائے۔ بیمار ہوں تو اس کے لیے دعا کریں، بیماری سے شفا کے لیے دعا کریں، انفرادی دعا بھی کریں اور اپنے بھائیوں کو تلقین کریں کہ بھائی اپنے بیمار بھائی کے لیے دعا کریں، تو یہ جذبہ ہمارے اندر ہونا چاہیے، ہم اپنے مؤمن بھائی کے سچے خیر خواہ ہیں۔ مؤمن جو ہیں یہ ایک آفاقی اخوت ہے۔ آپ دیکھیے جب مہاجر ہجرت کر کے گئے ہیں، کتنے ستائے ہوئے تھے وہ، کتنے پریشان کیا گیا تھا ان کو، ان کا جینا دوبھر کر دیا گیا تھا ان کے اپنے وطن میں، اس حالت میں انہوں نے اس وطن کو چھوڑا ہے۔ تو کس طرح انصارِ مدینہ نے ان کی پذیرائی کی ہے، ان کو اپنا بھائی بنایا ہے، اپنی جائیداد میں ان کو حصہ دینے کے لیے پوری طرح سے پیشکش کر دی ہے انہوں نے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا اس بات کا اختیار دے دیا ہے کہ مالِ غنیمت ہمارے حصے کا بھی ہمارے انصار بھائیوں کو دے دیجیے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے قرآن میں تعریف فرمائی ہے ویؤثرون علیٰ انفسہم ولو کان بہم خصاصہ سورہ حشر میں فرمایا ویؤثرون علیٰ انفسہم ولو کان بہم خصاصہ تو اپنی ضرورتوں کو یہ قربان کر دیتے ہیں اور اپنے مؤمن بھائیوں کے لیے ایثار کیا کرتے ہیں، ایثار پیشہ لوگ ہوتے ہیں۔ اور پوری طرح سے اسلامی تاریخ جو ہے، اس قسم کی چیزوں سے مزین ہے، آپ سمجھئے۔
تو ہم تو اصل میں اسی تاریخ کا دوبارہ اعادہ کرنا چاہتے ہیں، انہی با، انہی ایام کو دوبارہ لانا چاہتے ہیں، تو اس لیے ہمارے اندر یہ اوصاف ہونا چاہیے، اس بات کی تاکید بار بار کی جاتی ہے۔