رزق اور اولاد صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ جس نے کسی اور سے یہ امید باندھی کہ وہ مافوق الاسباب طور پر اسے رزق دے سکتا ہے، اولاد عطا کر سکتا ہے، یا تقدیر بدل سکتا ہے، وہ دراصل اللہ کے اختیارات میں شریک ٹھہرا رہا ہے۔ توحیدِ ربوبیت کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ بندہ یہ یقین رکھے کہ رزق، اولاد، نفع و نقصان سب کچھ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، کوئی مخلوق اس میں شریک نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
لِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَآءُ إِنَـٰثًۭا وَيَهَبُ لِمَن يَشَآءُ ٱلذُّكُورَ
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے، وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہے بیٹیاں عطا کرے اور جسے چاہے بیٹے۔
(سورۃ الشوریٰ :49)
یہ اعلانِ توحید ہے کہ اولاد کا دینا، روکنا، اور رزق کا بڑھانا گھٹانا صرف اللہ کے قبضے میں ہے۔ جو شخص قبر، ولی، یا کسی بزرگ کے وسیلے سے یہ امید رکھتا ہے کہ وہ اسے اولاد یا رزق دلائے گا، اس نے توحیدِ ربوبیت میں شرک کیا۔
نبی ﷺ نے فرمایا
مَنْ تَعَلَّقَ شَيْئًا وُكِلَ إِلَيْهِ
جس نے کسی چیز پر بھروسہ کیا، اسے اُسی کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔
(سنن ترمذي: كتاب الطب: حدیث: 2072)
لہذا جو شخص اللہ کے سوا کسی پر امید لگاتا ہے، اللہ اسے اسی کے حوالے کر دیتا ہے، اور وہ محروم ہو جاتا ہے۔ صحابہ کرامؓ کا عقیدہ یہی تھا کہ سائل اللہ سے مانگے، اور امید بھی اسی سے رکھے۔
اس لیے جو شخص دعا یا نذر و نیاز کے ذریعے کسی ولی یا بزرگ سے اولاد یا روزی مانگتا ہے، وہ دراصل اللہ کی ربوبیت میں شریک ٹھہراتا ہے، چاہے زبان سے کلمہ پڑھتا ہو۔ خالص ایمان یہی ہے کہ بندہ ہر حاجت میں صرف اللہ سے رجوع کرے، اسی پر توکل کرے اور اسی سے امید رکھے، کیونکہ وہی “الرزّاق” اور “الوَهّاب” ہے باقی سب اس کے محتاج ہیں۔