قومِ نوحؑ نے اپنے نبی کی نصیحت کو جھٹلایا تو انجام کیا ہوا؟
إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ
قومِ نوحؑ کا انجام اللہ کی سنت کا واضح مظہر ہے کہ جب لوگ شرک، انکارِ وحی، اور نبی کی تکذیب میں حد سے گزر جائیں تو اللہ کا عذاب اُن پر ضرور آتا ہے۔
پس ہم نے اسے اور اس کے ساتھ والوں کو کشتی میں نجات دی، اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہم نے انہیں غرق کر دیا، بے شک وہ اندھے لوگ تھے۔
(سورۃ الاعراف :64)