اسلام میں عمل کی قبولیت کا مدار نیت پر ہے۔ بندہ چاہے کتنی ہی عبادت کرے، اگر اس کا مقصد اللہ کی رضا نہیں بلکہ ریا، شہرت یا لوگوں کی تعریف ہو تو وہ عمل مردود ہے۔ خالص توحید کا تقاضا یہ ہے کہ نیت بھی صرف اللہ کے لیے ہو، کیونکہ شرکِ نیت یعنی ریاکاری دراصل عمل کے باطن میں شرک کی ایک خفیہ صورت ہے جو توحید کو باطل کر دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ
اور انہیں یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص رکھتے ہوئے، یکسو ہو کر۔
(سورۃ البیّنہ :5)
یہ واضح اعلان ہے کہ عبادت کی اصل روح اخلاص ہے۔ جو عمل خالص اللہ کے لیے نہ ہو، وہ خواہ کتنا ہی حسین دکھے، حقیقت میں باطل ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
الْعَمَلُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى
عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملتا ہے جس کی وہ نیت کرے۔
(صحيح البخاري:كتاب النكاح:حدیث: 5070)
یہی وہ بنیاد ہے جو مومن کے عمل کو دنیاوی ریاکاری سے الگ کر کے توحید کے نور سے منور کرتی ہے۔ جو لوگ نیک اعمال دنیا یا مخلوق کی خوشنودی کے لیے کرتے ہیں، ان کے اعمال توحید کے ترازو میں بے وزن ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا خالص نیت کے بغیر کوئی عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں۔ قبولیت اسی عمل کو حاصل ہوتی ہے جو صرف اللہ کی رضا کے لیے، اخلاص اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہو۔