مسلکی مناظرے امت کی اصلاح کرتے ہیں یا انتشار پیدا کرتے ہیں؟

مسلکی مناظرے امت کی اصلاح نہیں بلکہ انتشار، عصبیت اور دلوں میں بغض پیدا کرتے ہیں۔ نبی ﷺ نے دین کے علم کو مناظروں اور جھگڑوں کا میدان نہیں بنایا بلکہ اخلاص، نصیحت اور عمل کا ذریعہ قرار دیا۔ قرآن نے واضح طور پر اختلاف اور تفرقہ سے روکا ہے۔

اللہ نے فرمایا کہ
وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ۚ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
اور اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو واضح دلائل آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالنے لگے اور اختلاف کرنے لگے، ان کے لیے سخت عذاب ہے۔
(آل عمران: 105)

مسلکی مناظرے دراصل حق کے اظہار سے زیادہ اپنے مسلک کی برتری ثابت کرنے کی کوشش بن جاتے ہیں، جس میں علم کے بجائے جذبات، تحقیر اور طعن غالب آتے ہیں۔

نبی ﷺ نے فرمایا
مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ هُدًى كَانُوا عَلَيْهِ إِلَّا أُوتُوا الْجَدَلَ . ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ
 { مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلا جَدَلا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ }سورة الزخرف آية 58

کوئی قوم ہدایت پانے کے بعد جب گمراہ ہو جاتی ہے تو جھگڑا لو اور مناظرہ باز ہو جاتی ہے، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی[ ما ضربوه لك إلا جدلا بل هم قوم خصمون] یہ لوگ تیرے سامنے صرف جھگڑے کے طور پر کہتے ہیں بلکہ یہ لوگ طبعاً جھگڑالو ہیں۔  الزخرف: ۵۸ ۔
 سنن ترمذي:كتاب تفسير القرآن :حدیث: 3253

پس امت کی اصلاح مناظرے سے نہیں بلکہ قرآن و سنت کی دعوت، عدل اور حکمت سے ہوتی ہے۔ جو مناظرے نفوس میں نفرت اور فتنہ پیدا کریں، وہ دراصل شریعت کے منہج کے خلاف اور انتشار کا سبب ہیں۔

تلاش کریں