اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کے لیے قیامت کے دن سب سے بڑا انعام اپنی رضا اور اپنے دیدار کو قرار دیا ہے، جو جنت کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ
لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ
جن لوگوں نے نیکی کی، ان کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بھی زیادہ۔
(یونس :26)
صہیب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: جب جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے، (اس وقت) اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا تمہیں کوئی چیز چاہیے جو تمہیں مزید عطا کروں؟ وہ جواب دیں گے کیا تو نے ہمارے چہرے روشن نہیں کیے؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور دوزخ سے نجات نہیں دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چنانچہ اس پر اللہ تعالیٰ پردہ اٹھا دے گا تو انہیں کوئی چیز ایسی عطا نہیں ہو گی جو انہیں اپنے رب عزوجل کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو۔
(صحيح مسلم:كتاب الإيمان:حدیث: 449)
یوں اہلِ ایمان کا سب سے بڑا انعام اللہ کی رضا اور اللہ کا دیدار ہے، جو اس بات کی علامت ہوگی کہ وہ اب ہمیشہ کے لیے کامیاب، مقبول اور محبوب بندے بن گئے۔