کیا متصوفین کی اصطلاحات قرآن سے ثابت ہیں؟

متصوفین نے جو اصطلاحات گھڑیں جیسے فنا فی اللہ، بقا باللہ، وحدت الوجود، کشف، حال، وجد، اور تصوفی مراتب وغیرہ۔ ان میں سے کچھ بھی قرآن و سنت سے ثابت نہیں ہیں۔ یہ محض بعد کے فلسفیانہ اور ہندی، یونانی اثرات سے داخل ہونے والے عقائد و نظریات اور باطل اصطلاحات ہیں جنہیں دین کا حصہ بنا دیا گیا۔ اللہ کی فرمایا کہ

وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ
اور ہم نے تم پر یہ کتاب اتاری جو ہر چیز کی وضاحت کرنے والی ہے اور ہدایت، رحمت اور مسلمانوں کے لیے خوشخبری ہے۔(النحل 89)

یہ اعلان کرتا ہے کہ دین کے تمام اصول و اصطلاحات قرآن ہی میں موجود ہیں، نہ کہ خود ساختہ الفاظ یا فلسفیانہ تراکیب میں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد
جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔
(صحیح بخاری، حدیث نمبر 2697)

یہ اصولی قاعدہ بتاتا ہے کہ تصوفی اصطلاحات چونکہ کفریہ و شرکیہ ہیں جبکہ قرآن و حدیث کفر و شرک کی کماحقہ نفی کرتے ہیں، اس لیے تصوفی اصطلاحات مردود، بدعت اور گمراہی ہیں۔ اسلام صرف انہی عقائد و نظریات کو دین مانتا ہے جو قرآن اور رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائے۔ جو دین قرآن و سنت میں نہ ہو، وہ اسلام نہیں بلکہ دین میں اضافہ اور تحریف ہے۔

تلاش کریں