کیا نبی ﷺ کو مقام الوہیت کے درجے تک پہنچانے کو محبت کا نام دیا جا سکتا ہے؟

ہرگز نہیں، نبی ﷺ کو مقامِ الوہیت تک پہنچانا محبت نہیں بلکہ غلو اور شرک ہے۔ حقیقی محبت وہ ہے جو نبی ﷺ کی اطاعت اور سنت کی پیروی میں ظاہر ہو، نہ کہ آپ کو اللہ کے درجے تک بلند کر دیا جائے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا

قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٌۭ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ
کہہ دو! میں تم جیسا ہی ایک بشر ہوں، مجھ پر وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔
(الکہف 18:110)

یعنی نبی ﷺ بشر ہیں، الٰہ نہیں؛ آپ کی عزت و تعظیم عبادت کی حد تک نہیں پہنچنی چاہیے۔

نبی ﷺ نے خود فرمایا
لا تطروني كما اطرت النصارى ابن مريم فإنما انا عبده، فقولوا: عبد الله ورسوله
مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو نصاریٰ نے ان کے رتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، اس لیے یہی کہا کرو (میرے متعلق) کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔
(صحيح البخاري:كتاب أحاديث الأنبياء:حدیث: 3445)

پس جو شخص نبی ﷺ کو الوہیت کے درجے تک لے جائے وہ دراصل محبت کے لبادے میں شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔ سچی محبت وہ ہے جو توحید اور سنت کے دائرے میں رہے یعنی نبی ﷺ کو عبد و رسول ماننا، نہ کہ معبود۔

تلاش کریں