جی ہاں، نبی کریم ﷺ کا خواب وحی ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ
یقیناً اللہ نے اپنے رسول کو خواب سچا دکھایا۔
(الفتح: 27)
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ
کسی بشر کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے بات کرے مگر وحی کے ذریعے، یا پردے کے پیچھے سے، یا (یہ کہ) وہ ایک فرستادہ (فرشتہ) بھیجے اور وہ اللہ کے حکم سے جو چاہے وحی کرے۔ بےشک وہ بلند مرتبہ، حکمت والا ہے۔
(الشورى: 51)
وحی ڈال کر (الہام یا خوابِ صادق کی صورت میں)
پردے کے پیچھے سے (جیسے اللہ نے موسیٰؑ سے کوہِ طور پر براہِ راست کلام کیا)
فرشتہ بھیج کر (عام طور پر جبرئیلؑ کے ذریعے وحی نازل ہوئی)
اللہ عام بشر سے براہِ راست گفتگو نہیں کرتا، لیکن انبیاء کرام سے انہی تین طریقوں کے ذریعے کلام فرماتا رہا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِّنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِّنَ النُّبُوَّةِ
نیک خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔
(صحیح بخاری، حدیث 6989، صحیح مسلم، حدیث 2263)
اور نبی ﷺ کے لیے خاص طور پر خواب وحی ہوتے تھے، جیسا کہ ابتدائی وحی چھ ماہ تک خواب ہی کی صورت میں آئی اور وہ سب سچے ثابت ہوئے (صحیح بخاری، حدیث 3)۔
یعنی نبی ﷺ کے خواب وحی ہیں اور ان پر یقین و عمل لازم ہے۔