محض اللہ پر ایمان کا دعویٰ اُس وقت تک معتبر نہیں جب تک بندہ اپنی اطاعت، وفاداری اور تابع داری میں بھی صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو حاکم و رہنما مانے۔ اگر زبان سے ایمان کا اقرار ہو لیکن عمل میں کسی اور کے حکم، نظام یا قانون کو اللہ کے حکم پر ترجیح دی جائے تو یہ ایمان کے منافی ہے، کیونکہ ایمان صرف ماننے کا نہیں بلکہ جھکنے اور مان کر چلنے کا نام ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
پس نہیں، تیرے رب کی قسم! یہ ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ تجھے اپنے جھگڑوں میں فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر تیرے فیصلے پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں، بلکہ دل و جان سے تسلیم کر لیں۔
(سورۃ النساء: 65)
یعنی اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت سے ہٹ کر کسی اور کے فیصلے کو ماننا ایمان کے منافی ہے، خواہ وہ قوم، جماعت، یا کسی بزرگ کی بات ہو وہ قانونِ طاغوت کہلاتا ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا
مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى
جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوا، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔
صحيح البخاري – كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة – باب الاقتداء بسنن ۔۔۔: 7280
یہ حدیث ایمان کی حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ایمان صرف اللہ پر ایمان کہنے سے نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلوں پر عمل سے مکمل ہوتا ہے۔ لہٰذا جو بندہ اطاعتِ الٰہی کے بجائے کسی غیر کی اطاعت کو اختیار کرتا ہے، وہ زبان سے خواہ مومن ہونے کا دعوی کرتا رہے جبکہ اسکا عمل اسے کافروں میں شمار کرتا ہے۔