کیا توحیدِ الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ مدد صرف اللہ سے مانگی جائے؟

یقیناً توحیدِ الٰہی کا اصل تقاضا یہی ہے کہ مدد صرف اللہ سے مانگی جائے، کیونکہ حقیقی مددگار، کارساز، اور قادر صرف وہی ہے۔ مخلوق کی مدد تب ہی درست ہے جب وہ ظاہری اسباب کے درجے میں ہو، مگر حاجت روائی، مشکل کشائی یا غیب سے نصرت مانگنا اللہ کے سوا کسی سے جائز نہیں۔ یہی فرق توحید اور شرک کے درمیان حدِ فاصل ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔
( الفاتحہ: 5)

یہ قرآن کی سب سے بنیادی تعلیم ہے کہ بندگی اور استعانت  مدد طلبی  دونوں صرف اللہ کے لیے خاص ہیں۔کسی غیر اللہ کا واسطہ،وسیلہ،طفیل اور بحق کہہ کر نہ پکارا جائے۔

:نبی ﷺ نے فرمایا
إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ
جب مانگو تو اللہ سے مانگو، اور جب مدد چاہو تو اللہ سے مدد چاہو۔
جامع الترمذي – أبواب صفة القيامة والرقائق والورع: 2516

یعنی مومن کا توکل، دعا، اور امید کا مرکز صرف اللہ ہونا چاہیے۔ اگر کوئی غیراللہ سےغیبی مدد چاہے تو وہ اللہ کی صفات و اختیارات میں شریک ٹھہراتا ہے، جو صریح شرک ہے۔

لہٰذا توحید کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرے، اس سے مدد مانگے، اور دل سے یقین رکھے کہ
وَمَا لَهُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ
اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار یا کارساز نہیں۔
(التوبہ:74)

تلاش کریں