اولیاء کے مزار پر نیاز یا قربانی دینا دین کی ان شکلوں میں سے ہے جن میں نیت اور مقام دونوں عبادت کے حکم کو بدل دیتے ہیں، اسی لیے صحابہؓ نے اس باب میں توحید کی سب سے زیادہ حفاظت کی۔ اگر یہ عمل خیر اور عبادت کا حصہ ہوتا تو سب سے پہلے صحابہؓ اس کو اختیار کرتے، کیونکہ وہ رسول ﷺ کی محبت اور اولیاء کے احترام میں سب سے بڑھ کر تھے، مگر انہوں نے کبھی کسی قبر، مزار یا مقامِ تعظیم پر نہ نیاز دی، نہ جانور ذبح کیا، اور نہ ہی اسے عبادت کا کوئی درجہ سمجھا۔
قرآن نے اس سلسلے میں اصول واضح کر دیا
وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ
اور آستانوں پر ذبیحہ کرنا بھی (حرام ہے)۔(المائدۃ، 3)
یعنی ان جگہوں پر ذبح کرنا جن کی نسبت غیر اللہ کے ساتھ ہو، خواہ تعظیم ہو یا تبرک، یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہؓ نے نذر، نیاز اور ذبیحہ کے ہر دروازے کو صرف اللہ کے لیے رکھا، تاکہ عبادت دل کے اندر سے خالص رہے اور کسی مخلوق کی طرف نہ جھکے۔
نبی ﷺ کی سنت بھی یہی تھی کہ ذبح کا مقام اور نیت دونوں صرف اللہ کے لیے مخصوص رہیں۔ جب ایک صحابی نے ایک جگہ پر قربانی کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے سب سے پہلے یہی تحقیق فرمائی کہ وہاں کوئی “وثن، قبر یا معبد” تو نہیں۔ صحابی نے کہا: (لا) یعنی نہیں ہے، تب آپ ﷺ نے اجازت دی۔ یہ روایت سنن ابی داود میں موجود ہے۔ملاحظہ ہوں
ثابت بن ضحاک نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ (ایک جگہ کا نام ہے) میں اونٹ ذبح کرے گا تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت وہاں تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کفار کی عیدوں میں سے کوئی عید وہاں منائی جاتی تھی؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر لو البتہ گناہ کی نذر پوری کرنا جائز نہیں اور نہ اس چیز میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہیں۔
(سنن ابي داود:كتاب الأيمان والنذور:حدیث: 3313)
اس میں ایک بنیادی اصول یہ رکھا گیا کہ اگر جگہ کسی غیر اللہ کی نسبت سے متعارف ہو تو وہاں عبادت کا کوئی عمل جائز نہیں۔
پوری صحابہؓ کی زندگی میں ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ انہوں نے کسی ولی کے مزار پر نیاز دی ہو، نہ کھانے کی کوئی دیگ چڑھائی، نہ قربانی کی، نہ وہاں کوئی نذر مانی۔ وہ اولیاء کی محبت کرتے تھے مگر محبت نے انہیں عبادت کے دائرے سے کبھی تجاوز نہیں کروایا۔
اسی لیے اولیاء کی قبروں پر نیاز دینا سنتِ صحابہؓ سے ثابت نہیں، بلکہ اس کے خلاف ثابت ہے، کیونکہ یہ وہی دروازہ ہے جو عبادت کی نسبت کو اللہ سے ہٹا کر ایک مقام، قبر یا شخصیت کی طرف لے جاتا ہے۔