جب فرشتے خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے، تو قومِ لوط نے ان کے ساتھ بدفعلی کا ارادہ کیا، جو ان کی بدترین اخلاقی گمراہی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَجَاءَهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ ۖ وَمِن قَبْلُ كَانُوا يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ ۚ قَالَ يَا قَوْمِ هَٰؤُلَاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِي ضَيْفِي ۖ أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌ
اور اس کے پاس اس کی قوم دوڑتی ہوئی آئی، اور وہ اس سے پہلے بھی برے کام کیا کرتے تھے۔ اس نے کہا اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں ہیں، یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں۔ اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو، کیا تم میں کوئی بھی عقل والا نہیں۔
(ہود: 78)
قومِ لوط کے مردوں نے ان مہمانوں کے ساتھ بدفعلی کی خواہش ظاہر کی، جو ان کے اخلاقی زوال کی انتہا تھی۔ یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ جب شرک اور فحاشی اور بدفعلی عام ہو جائے تو وہ قوم عذابِ الٰہی کے قریب پہنچ جاتی ہے، جیسا کہ قومِ لوط آسمان سے الٹ دی گئی اور پتھروں سے تباہ کر دی گئی۔