لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو کس طرح کی بدکاری سے روکا تھا؟

لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو ہم جنس پرستی (مردوں کا مردوں سے بدفعلی کرنا) جیسے گھناؤنے عمل سے روکا تھا، جو اس سے پہلے دنیا میں کسی قوم نے نہیں کیا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلْفَـٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍۢ مِّنَ ٱلْعَـٰلَمِينَ، إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهْوَةًۭ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِ ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌۭ مُّسْرِفُونَ

کیا تم ایسی بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں کسی نے نہیں کی؟ تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت سے مردوں کے پاس جاتے ہو، بلکہ تم حد سے بڑھ جانے والے لوگ ہو۔
(الأعراف: 80–81)

لوط علیہ السلام نے انہیں اللہ کے غضب سے ڈرایا اور پاکیزہ ازدواجی زندگی کی طرف بلایا، لیکن انہوں نے انکار کیا اور فخر کے ساتھ بدکاری جاری رکھی۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا ان کی بستیوں کو الٹا دیا گیا اور ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی۔ یہ واقعہ امتِ مسلمہ کے لیے تنبیہ ہے کہ اللہ کی مقرر کردہ فطری حدود سے انحراف عذابِ الٰہی کو دعوت دیتا ہے، اور ایمان والوں پر لازم ہے کہ ایسے گناہوں سے اپنے معاشرے کو پاک رکھیں۔

تلاش کریں