قیامت کے دن سب سے پہلا سوال صلاۃ کے بارے میں کیوں ہوگا؟

قیامت کے دن ایمان کے بعد سب سے پہلا سوال صلاۃ کے بارے میں اس لیے ہوگا کہ یہ ایمان کے بعد اسلام کی بنیاد اور دین کا ستون ہے۔ جس کی صلاۃ درست ہوئی، اس کے باقی اعمال کے قبول ہونے کی امید ہے، اور جس کی صلاۃ ناقص ہوئی، اس کے دیگر اعمال بے وزن ہو جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ ۝ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ۝
تباہی ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی صلاۃ سے غافل رہتے ہیں۔
(الماعون: 4-5)

صرف صلاۃ ادا کرنا کافی نہیں بلکہ خشوع، اخلاص، اور پابندی کے ساتھ ادا کرنا لازم ہے۔ اس لیے حساب کی ابتدا اسی عمل سے ہوگی جو ایمان کی عملی تصدیق ہے۔ صلاۃ دراصل بندے اور رب کے درمیان عہدِ بندگی کا مظہر ہے، جس کے ذریعے توحید کی بنیاد زندہ رہتی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا
إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ صَلَاتُهُ ، فَإِنْ صَلَحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ ، وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ ، فَإِنِ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ شَيْءٌ قَالَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَيُكَمَّلَ بِهَا مَا انْتَقَصَ مِنَ الْفَرِيضَةِ ، ثُمَّ يَكُونُ سَائِرُ عَمَلِهِ عَلَى ذَلِكَ

قیامت کے روز بندے سے سب سے پہلے اس کی صلاۃ کا محاسبہ ہو گا، اگر وہ ٹھیک رہی تو کامیاب ہو گیا، اور اگر وہ خراب نکلی تو وہ ناکام اور نامراد رہا، اور اگر اس کی فرض صلاۃ میں کوئی کمی ہو گی تو رب تعالیٰ  فرشتوں سے  فرمائے گا دیکھو، میرے اس بندے کے پاس کوئی نفل صلاۃ ہے؟ چنانچہ فرض صلاۃ کی کمی کی تلافی اس نفل سے کر دی جائے گی، پھر اسی انداز سے سارے اعمال کا محاسبہ ہو گا۔

جامع الترمذي – أبواب الصلاة – باب ما جاء أن أول ما يحاسب به العبد يوم القيامة الصلاة: 413

یہ حدیث ظاہر کرتی ہے کہ صلاۃ تمام اعمال کا معیار ہے۔ اگر بندہ اس فرض کو سنبھال کر رکھے، تو باقی اعمال بھی اسی کے نور سے سنور جاتے ہیں۔ لیکن اگر وہ غافل رہا، تو باقی نیکیوں کی قدر بھی کم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا توحید کے تسلسل میں یہ حقیقت ہے کہ صلاۃ ایمان کا عملی اعلان ہے، اور اسی لیے قیامت کے دن سب سے پہلا سوال اسی کے بارے میں ہوگا تاکہ بندے کے ایمان کا درجہ ظاہر ہو۔

تلاش کریں