اللہ تعالیٰ نے قومِ مدین کے ناپ تول میں کمی کرنے کے جرم کو ظلم اور فساد فی الارض قرار دیا۔
وَيَا قَوْمِ أَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
اور اے میری قوم! ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا کیا کرو، اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو، اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔(الأعراف: 85)
قومِ مدین کے لوگ تجارتی لین دین میں ناپ تول میں کمی کرتے اور دوسروں کا حق مارتے تھے۔ قرآن نے اس کو صرف مالی بددیانتی نہیں کہا بلکہ فساد فی الارض اور ظلم سے تعبیر کیا، کیونکہ یہ عمل پورے معاشرے میں ناانصافی اور بدامنی پھیلاتا ہے۔ اس سے سبق یہ ملتا ہے کہ مالی معاملات میں خیانت اور ناپ تول کی کمی صرف کاروباری جرم نہیں بلکہ اللہ کے نزدیک بڑا گناہ اور تباہ کن فساد ہے۔