فرعون نے موسیٰؑ اور بنی اسرائیل پر سب سے بڑا ظلم یہ کیا کہ وہ انہیں غلام بنائے رکھا، ان کے نومولود لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اللہ کی دین کی تبلیغ پر پابندی لگائی۔ اس ظلم کی بنیاد طاقت، غرور اور شرک تھی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
فَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ ۭ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِ وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِيْنَ وَاَنْجَيْنَا مُوْسٰي وَمَنْ مَّعَهٗٓ اَجْمَعِيْنَ ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِيْنَ
تو ہم نے موسیٰ (علیہ السّلام ) کی طرف وحی بھیجی کہ سمندر پر اپنا عصا مارو تو سمندر پھٹ گیا پھر ہر ایک حصّہ ایک بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا۔ اور ہم نے وہاں دوسروں (فرعونیوں) کو قریب کر دیا۔ اور ہم نے بچا لیا موسیٰ (علیہ السّلام ) اور ان کے سب ساتھیوں کو۔ پھر ہم نے دوسروں کو غرق کر دیا۔ (الشعراء: 63 تا 66)
ظلم اور شرک پر قائم رہنا، چاہے وہ کتنی ہی طاقتور ریاست یا لشکر کے ساتھ کیوں نہ ہو، اللہ کے غضب سے بچ نہیں سکتا۔ نجات کا راستہ یہی ہے کہ ہم اللہ کی عبادت، اس کی سنت کی اتباع، اور ظلم و ستم سے بچنے کو اپنا شعار بنائیں۔