سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ایمان پر کیا اثر ڈالے گا؟

جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو ایمان اور توبہ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔ یہ وہ گھڑی ہوگی جب یقین سب پر ظاہر ہو جائے گا، مگر اس وقت ایمان لانا نفع نہیں دے گا کیونکہ وہ ایمانِ غیب نہیں رہے گا بلکہ ایمانِ مشاہدہ بن جائے گا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ رَبُّكَ اَوْ يَاْتِيَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ۭ يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِيْٓ اِيْمَانِهَا خَيْرًا ۭ قُلِ انْتَظِرُوْٓا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ

کیا یہ لوگ صرف اس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ انکے پاس فرشتے آئیں یا آپ کا پروردگار خود آئے یا آپکے پروردگار کی کچھ  خاص  نشانیاں آجائیں ؟  یاد رکھو  جس دن تمہارے پروردگار کی بعض  خاص  نشانیاں آجائیں گی تو کسی بھی شخص کو اسکا ایمان لانانفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی ہو، آپ فرما دیجئے : تم انتظار کرو،

ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔  الأنعام :158

نبی ﷺ نے فرمایا

لا تقوم الساعة حتى تطلع الشمس من مغربها، فإذا طلعت ورآها الناس، آمنوا اجمعون، وذلك حين لا ينفع نفسا إيمانها
قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی، جب تک سورج مغرب سے نہ طلوع ہو لے۔ جب مغرب سے سورج طلوع ہو گا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لائیں گے لیکن یہ وقت ہو گا جب کسی کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا۔
 صحيح البخاري:كتاب تفسير القرآن:حدیث: 4636

ایمان غیب پر یقین کا نام ہے، مشاہدے کے بعد ماننا اطاعت نہیں بلکہ مجبوری ہے۔ لہٰذا مومن کے لیے نصیحت یہ ہے کہ ایمان، توبہ، اور اصلاحِ عمل اس وقت کرے جب دروازہ کھلا ہے۔

تلاش کریں