اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام کو جالوت کو قتل کرنے کے بعد بادشاہت، نبوت اور حکمت عطا فرمائی، اور انہیں عدل و دانش میں ممتاز مقام دیا۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ
فَهَزَمُوهُم بِإِذْنِ اللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ وَآتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَاءُ
تو وہ (اہلِ ایمان) اللہ کے حکم سے ان پر غالب آگئے، اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا، پھر اللہ نے اسے بادشاہی، دانائی (حکمت) دی، اور اسے وہ علم سکھایا جو وہ چاہتا تھا۔
(البقرہ: 251)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ کی نصرت ان لوگوں کو ملتی ہے جو ایمان اور صبر کے ساتھ اس کے حکم پر قائم رہتے ہیں۔ داؤدؑ کا مقام اس لیے بلند ہوا کہ انہوں نے طاقت کے نہیں بلکہ یقینِ توحید کے زور پر دشمن کو شکست دی۔ یوں داؤدؑ کا بلند مقام اس بات کی علامت ہے کہ اللہ عزت اسی کو دیتا ہے جو اس کی توحید پر قائم اور بندگی میں ثابت قدم رہے۔