اگر حق ایک ہے تو نجات پانے والے گروہ کی پہچان کیا ہے؟

حق ہمیشہ ایک ہی ہے، اور وہ ہے اللہ کی کتاب اور نبی ﷺ کی سنت کی خالص پیروی۔ قرآن میں نجات یافتہ راستے کی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ

وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ، وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ
اور بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے، سو اسی پر چلو، اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے جدا کر دیں گے۔ الأنعام: 153

یہی راستہ نجات پانے والے گروہ کی پہچان ہے۔ یعنی وہ لوگ جو صرف قرآن، سنت اور فہمِ صحابہؓ پر قائم ہوں، نہ کہ کسی مسلک یا شخصیت پر۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
افْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى أَوْ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، وَتَفَرَّقَتِ النَّصَارَى عَلَى إِحْدَى أَوْ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً

یہود اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے، اور نصاریٰ بھی اکہتر یا بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے، اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔
 سنن أبي داود – كتاب السنة: 4596

پس نجات یافتہ گروہ وہی ہے جو نبی ﷺ اور صحابہؓ کے راستے کو عین حق سمجھ کر اس پر قائم رہتا ہے۔ وہ اپنے فہم، فیصلے، اور عقیدے کو صرف کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ کے تابع رکھتا ہے یہی صراطِ مستقیم اور نجات کی واحد راہ ہے۔

تلاش کریں