اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
اِقْرَاْ كِتٰبَكَ ۭ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا
پڑھ لے اپنا نامۂ اعمال، آج تو خود ہی اپنے حساب کے لیے کافی ہے۔
(بنی اسرائیل: 14)
یہ فرمان اس وقت کہا جائے گا جب ہر انسان کے سامنے اس کے اعمال کا ریکارڈ کھول دیا جائے گا۔ اس دن کوئی انکار یا تاویل باقی نہیں رہے گی، کیونکہ ہر قول و عمل اللہ کے علم اور فرشتوں کی تحریر میں محفوظ ہوگا۔ انسان خود اپنے اعمال کا گواہ بنے گا، اور انصاف کے ساتھ فیصلہ سنایا جائے گا۔
نبی ﷺ نے فرمایا
اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے نزدیک بلا لے گا اور اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا اور اسے چھپا لے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا تجھ کو فلاں گناہ یاد ہے؟ کیا فلاں گناہ تجھ کو یاد ہے؟ وہ مومن کہے گا ہاں، اے میرے پروردگار۔ آخر جب وہ اپنے گناہوں کا اقرار کر لے گا اور اسے یقین آ جائے گا کہ اب وہ ہلاک ہوا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تیرے گناہوں پر پردہ ڈالا۔ اور آج بھی میں تیری مغفرت کرتا ہوں، چنانچہ اسے اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی، لیکن کافر اور منافق کے متعلق ان پر گواہ (ملائکہ، انبیاء، اور تمام جن و انس سب) کہیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا۔ خبردار ہو جاؤ! ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہو گی۔
(صحيح البخاري:کتاب المظالم والغصب:حدیث: 2441)
حساب اور جزا کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے کوئی نبی، ولی یا فرشتہ انسان کے اعمال کی جزا یا سزا نہیں دے سکتا۔ انسان اپنے انجام کا خود ذمہ دار ہوگا۔