ابراہیمؑ نے اپنی قوم کو توحید سمجھانے کے لیے عقلی اور عملی مناظرہ کا طریقہ اپنایا۔ انہوں نے صرف گفتگو پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی قوم کے معبودوں کے باطل ہونے کو عملی مثال سے واضح کیا۔ جب ان کی قوم میلے پر گئی تو انہوں نے موقع دیکھ کر سب بتوں کو توڑ ڈالا، صرف بڑے بت کو سلامت چھوڑ دیا تاکہ قوم خود سوچے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
فَجَــعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِيْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَيْهِ يَرْجِعُوْنَ
پس ابراہیمؑ نے ان (بتوں) کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا سوائے ان کے سب سے بڑے کے، تاکہ وہ اسی کی طرف رجوع کریں۔
(الأنبیاء: 58)
یہ طریقہ توحید کی عقلی حجت پر مبنی تھا تاکہ قوم خود سمجھے کہ جو اپنے دفاع پر قادر نہیں، وہ عبادت کے لائق نہیں۔ نبی ﷺ نے بھی اسی ابراہیمی منہج پر عمل کیا۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (فتح مکہ دن جب) مکہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان بتوں پر مارنے لگے اور فرمانے لگے کہ «جاء الحق وزهق الباطل» حق آ گیا اور باطل مٹ گیا۔
(صحيح بخاري:کتاب المظالم والغصب:حدیث: 2478)
یہی طریقہ اہلِ ایمان کے لیے نمونہ ہے کہ باطل کے رد میں دلائل، حکمت اور عمل تینوں پہلو توحید کی بنیاد پر قائم رہیں۔