ہود علیہ السلام نے اپنی قوم عاد کو اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت اور تکبر پر مبنی رویہ غرور سے روکا تھا، اور انہیں صرف اللہ کی بندگی کی دعوت دی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
وَاِلٰي عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا ۭقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ
اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا، اس نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، کیا تم ڈرتے نہیں؟(الاعراف: 65)
قومِ عاد اپنی جسمانی طاقت، بڑے بڑے محلات، اور اونچے ستونوں پر فخر کرتی تھی، جیسا کہ فرمایا گیا:
اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ
کیا تم ہر اونچی جگہ پر بے کار نشانیاں بناتے ہو؟ اور تم بڑے بڑے محلات بناتے ہو گویا تم ہمیشہ (زندہ) رہو گے۔ اور جب تم (کسی کی) پکڑ کرتے ہو (تو) سخت جابر بن کر پکڑتے ہو۔
(الشعراء: 128 تا 130)
ہودؑ نے انہیں اس غرور سے روکا، اور بتایا کہ یہ سب طاقت اور عمارتیں انہیں عذاب سے نہیں بچا سکتیں، اگر وہ اللہ کی وحدانیت کو نہ مانیں شرک پر جمے رہے۔ یہی مشرکانہ اور متکبرانہ روش قومِ عاد کے ہلاک ہونے کا اصل سبب بنی۔ ایمان اور نجات کا راستہ صرف اللہ کی بندگی اور عاجزی میں ہے، نہ کہ طاقت یا دنیاوی شان میں۔