نبی کریم ﷺ کی تعلیمات وہی وحی ہیں جو اللہ نے نازل فرمائی۔ دین میں اطاعت کا حق صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو حاصل ہے۔ جو شخص کسی بزرگ، امام، یا پیشوا کی بات کو نبی ﷺ کے قول پر ترجیح دے یا ان کی بات کو دین کا مستقل ماخذ مان لے، وہ دراصل طاعت میں شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔ اسلام میں کسی بھی بشر کی اطاعت اسی وقت جائز ہے جب وہ اطاعت رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے تابع ہو۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًۭا مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَٱلْمَسِيحَ ٱبْنَ مَرْيَمَ وَمَآ أُمِرُوٓا إِلَّا لِيَعْبُدُوٓا إِلَـٰهًۭا وَٰحِدًۭا لَّآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَـٰنَهُۥ عَمَّا يُشْرِكُونَ
انہوں نے اپنے علما اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا، حالانکہ انہیں حکم یہی دیا گیا تھا کہ ایک ہی الٰہ کی عبادت کریں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ان کے شرک سے پاک ہے۔
(سورۃ التوبہ:31)
یہ آیت بتاتی ہے کہ اہلِ کتاب نے اپنے علماء و مشائخ کی اندھی تقلید کر کے شرکِ طاعت میں مبتلا ہو گئے۔ جب انہوں نے ان کی باتوں کو اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر مقدم کیا، تو گویا انہوں نے انہیں رب بنا لیا۔
نبی ﷺ نے اسی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا
أَمَا إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْبُدُونَهُمْ، وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَهُمْ شَيْئًا اسْتَحَلُّوهُ وَإِذَا حَرَّمُوا عَلَيْهِمْ شَيْئًا حَرَّمُوهُ
وہ اپنے علما کی عبادت نہیں کرتے تھے، بلکہ جب وہ کسی چیز کو حلال کہتے تو اسے حلال مان لیتے، اور جب کسی چیز کو حرام کہتے تو اسے حرام مان لیتے، یہی ان کی ان کی عبادت تھی۔
(سنن ترمذي:كتاب تفسير القرآن :حدیث: 3095)
یہی طرزِعمل آج بھی ان لوگوں میں پایا جاتا ہے جو نبی ﷺ کی سنت چھوڑ کر اپنے پیر، شیخ یا فقہی گروہ کے اقوال کو حرفِ آخر سمجھ لیتے ہیں۔ یہ شرکِ طاعت ہے۔
ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سامنے سر جھکائے، اور کسی کی بات اس کے مقابلے میں وزن نہ رکھے۔
فرمایا کہ
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَجًۭا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًۭا
تمہارے رب کی قسم! یہ لوگ ایمان والے نہیں ہو سکتے جب تک اپنے تمام اختلافات میں تمہیں فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، اور تمہارے فیصلے پر دل میں تنگی محسوس نہ کریں، بلکہ مکمل فرمانبرداری کے ساتھ تسلیم کر لیں۔
(سورۃ النساء، :65)
لہٰذا جس نے نبی ﷺ کے قول پر کسی بزرگ کی بات کو ترجیح دی، اس نے طاعت میں شرک کیا۔