کیا نبی ﷺ کو مشکل کشا ماننا شرک ہے؟

مشکل کشا وہ ہوتا ہے جس پر خود کبھی مشکل نہ آئے، لہذا نبی ﷺ کو مشکل کشا ماننا صریح شرک ہے، کیونکہ قرآن کے مطابق مشکلات اور مصائب دور کرنے والا صرف اللہ ہے، کوئی نبی یا ولی اس قدرت کا مالک نہیں۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے

قُلْ اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِيَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖٓ اَوْ اَرَادَنِيْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ ۭ قُلْ حَسْبِيَ اللّٰهُ ۭ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ

فرما دیجیے بھلا بتاؤ جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے تو کیا وہ اس کی (بھیجی ہوئی) تکلیف کو دُور کر سکتے ہیں ؟ یا اگر اللہ مجھ پر رحمت فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں ؟ آپ فرما دیجیے میرے لیے اللہ ہی کافی ہے بھروسا رکھنے والے اسی پر بھروسا رکھتے ہیں۔
(الزمر: 38)

نبی ﷺ نے خود فرمایا
إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ
جب تو سوال کرے تو اللہ سے سوال کر، اور جب مدد چاہے تو اللہ سے مدد چاہو۔
جامع الترمذي – أبواب صفة القيامة والرقائق والورع: 2516

یعنی مشکل کشا اللہ ہے، نبی ﷺ اللہ کے محتاج بندے تھے۔

تلاش کریں