کیا قرآن نے شرک کی جڑ تعظیم میں غلو کو بھی قرار دیا؟

جی ہاں، قرآنِ کریم نے شرک کی جڑ تعظیم میں غلو کوبھی قرار دیا ہے یعنی جب لوگ انبیاء، اولیاء یا نیک لوگوں کی تعظیم میں حد سے بڑھ گئے اور ان کے لیے وہ صفات مان لیں جو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص تھیں، تو یہی غلو شرک میں تبدیل ہوا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا

يَـٰٓأَهْلَ ٱلۡكِتَـٰبِ لَا تَغۡلُواْ فِى دِينِكُمۡ وَلَا تَقُولُواْ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡحَقَّ
اے اہلِ کتاب! اپنے دین میں حد سے نہ بڑھو، اور اللہ پر حق کے سوا کچھ نہ کہو۔
(النساء :171)

یہ آیت دراصل اس بنیادی گمراہی کی جڑ کو واضح کرتی ہے جس سے عیسیٰؑ کو الٰہ ماننے کا عقیدہ پیدا ہوا۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا
يا ايها الناس إياكم والغلو في الدين، فإنه اهلك من كان قبلكم الغلو في الدين
لوگو! دین میں غلو سے بچو کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں اسی غلو نے ہلاک کیا
(سنن ابن ماجه:كتاب المناسك:حدیث: 3029)

یعنی شرک اللہ کے بندوں کی بڑائی میں حد سے تجاوز سے بھی پیدا ہوتا ہے۔
پس قرآن و سنت دونوں نے واضح کیا کہ توحید کی حفاظت کا پہلا اصول غلو سے اجتناب ہے، کیونکہ یہی شرک کی اولین جڑ ہے۔

تلاش کریں