کیا اہلِ قبور دنیا کی خبروں اور حالات کو بھی سن سکتے ہیں؟

اہلِ قبور کے بارے میں قرآن نے اصل اور قطعی حقیقت یہ بیان کی ہے کہ وہ دنیا کی آوازیں، خبریں اور حالات سن بھی نہیں سکتے اور ادراک بھی نہیں رکھتے۔ قرآن کا حکم ہے۔

وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ
اورآپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں مدفون ہیں۔
(فاطر 22)

یہ عبارت صرف آواز کی نہیں بلکہ سمعِ ادراک کی مطلق نفی کرتی ہے۔ خواہ وہ دعا ہو، فریاد ہو، حالات ہوں یا دنیا کی خبریں ہوں۔ حقیقت یہی ہے کہ قبر والے نہ دنیا کی گفتگو سنتے ہیں، نہ گھر والوں کے حالات جانتے ہیں، نہ آنے جانے والوں کی خبریں سن سکتے ہیں۔ اسکے برعکس عصرِ حاضر کے بعض گروہ قدموں کی چاپ یا قبرستان میں سلام کے بارے میں وارد روایات کو اس پر دلیل بناتے ہیں کہ مردے سنتے بھی ہیں جانتے بھی ہیں ان پر اُنکے عزیز و اقارب کے اعمال بھی پیش ہوتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ اگر قبر والوں کو دنیا کی خبریں سننے کی قدرت ہوتی تو قرآن کی آیاتِ عدمِ سماع کا مفہوم ختم ہو جاتا، اور شرک کے بہت سے دروازے کھل جاتے۔ صحابہؓ کے آثار میں بھی اس کی مکمل نفی ہے۔ نہ وہ قبروں سے گفتگو کرتے تھے، نہ خبریں سنوانے جاتے، نہ مردوں سے دنیاوی حالات پوچھتے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مردے نہ سن سکتے ہیں نہ جان سکتے ہیں۔ مافوق الاسباب سننے والے ذات صرف اللہ ہی ہے۔ لہذا اہلِ قبور دنیا کی آوازیں، خبریں اور حالات بالکل نہیں سن سکتے۔ قرآن کی نص، حدیثِ نبوی اورصحابہؓ کا راستہ سب اس کی صریح نفی کرتے ہیں۔ مافوق الاسباب دنیاوی سماعت، ادراک اور خبر گیری صرف زندوں کا وصف ہے، اور مافوق الاسباب دعا و فریاد صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے۔

تلاش کریں