کیا اولیاء کی روحیں دنیا میں مدد کے لیے گھومتی پھرتی ہیں؟

موت کے بعد انسان کا دنیا سے ہر طرح کا تعلق ختم ہو جاتا ہے، اور روح عالمِ برزخ کے ایک بند حصار میں منتقل کر دی جاتی ہے جہاں سے واپسی یا دنیاوی تصرف کا کوئی راستہ نہیں۔ قرآن نے مرنے والوں سے امید باندھنے اور ان سے مدد چاہنے کے عقیدے کو باطل قرار دیا ہے، کیونکہ مدد کا حقیقی اختیار صرف اللہ کے پاس ہے، نہ کسی ولی کو، نہ کسی نبی کو، نہ کسی روح کو۔ یہی راستہ صحابہؓ کا راستہ تھاوہ  مردوں سے کسی مدد، نصرت، یا تصرف کے قائل نہ تھے۔

وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ ۝ اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَاۗءَكُمْ ۚ وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ ۭ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ ۭ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ۝

یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ جن کو اللہ کے سوا پکارا جاتا ہے، چاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ وہ نہ سن سکتے ہیں، نہ پہنچ سکتے ہیں، نہ مدد کر سکتے ہیں۔ مرنے کے بعد تو یہ عاجزی اور بڑھ جاتی ہے، کیونکہ روح اپنے مقامِ برزخ سے آگے آنے کی قدرت ہی نہیں رکھتی۔(الفاطر:13، 14)

نبی ﷺ نے فرمایا
جب بندہ مر جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں۔
(صحيح مسلم: كِتَابُ الْوَصِيَّةِ بَابُ مَا يَلْحَقُ الْإِنْسَانَ مِنَ الثَّوَابِ بَعْدَ وَفَاتِهِ:1631)
اعمال کے منقطع ہونے کا یہ مفہوم بھی ہے کہ مرنے والے کا تصرف، مدد، چلنا پھرنا، اور دنیا میں کسی کو نفع پہنچانا سب ختم ہو جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر صحابہؓ نے کبھی کسی ولی کی روح کو مدد کیلئے پکارا نہ اس کا تصوررکھا۔

آج کے دور میں بعض فرقے روحانی تصرف اور اولیاء کے مددگار بن جانے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر یہ توحید کے سراسر خلاف ہے، کیونکہ یہ اللہ کے اختیارات کو مخلوق میں بانٹنے کے مترادف ہے۔ قرآن کا برزخ کے حائل ہونے کا تصور اور حدیث کا انقطاعِ عمل اس عقیدے کی تمام بنیادوں کو منہدم کر دیتا ہے۔ لہذا نیک روحوں کا دنیا میں گھوم کر مدد کرنا، نہ قرآن میں ہے، نہ حدیث میں، نہ صحابہؓ کے طریقے میں۔ روح برزخ میں مقید رہتی ہے، دنیا میں نہ آ سکتی ہے، نہ کسی کی حاجت روائی کرتی ہے، مدد صرف اللہ کی ہے، اور یہی خالص توحید ہے۔

تلاش کریں