قرآن نے مردوں کے بارے میں سماع کی مطلق نفی کرکے اصل قاعدہ بیان کر دیا ہے، اور یہی قاعدہ صحابہؓ کے ہاں معیار تھا
إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى
بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔
(النمل 80)
اب اِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ یا مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ والی حدیث جو قلیب بدر کے موقع پر منقول ہے۔ اس کو خود صحابہؓ اور ائمہ حدیث نے عام سماع کی دلیل نہیں بنایا، بلکہ اسے صرف ایک خاص موقع کی غیر معمولی خبر قرار دیا ہے۔
عمرؓ نے جب عرض کیا: یا رسول اللہ! ٓپ ایسے جسموں کے کلام کر رہے ہیں جن میں روحیں نہیں؟
تو نبی ﷺ نے اس خصوصی واقعے کے بارے میں بتایا کہ وہ فی الحال یہ کلام سن رہے ہیں۔ یہی وہ استثنائی کیفیت تھی جسے خیرالقرون میں معجزہ کہا ہے، اور جس سے واضح کر دیا کہ یہ عام قاعدہ نہیں۔
امّ المؤمنین عائشہؓ نے اس روایت سے عام سماع سمجھنے والوں کو قرآن کی نص سے سمجھا دیا، اور آیتِ عدمِ سماع پیش کی۔ سب نے اسے مخصوص خطاب، یا عارضی معجزہ کہا ہے، نہ کہ موت کے بعد مردہ سننے والا مراد لے کر عمومی سماعت کا عقیدہ بنایا۔
اگر یہ روایت عام سماع پر دلیل ہوتی تو قرآن کی نفیِ سماع کی نص اپنی اصل قوت کھو دیتی، صحابہؓ کا عملی اجماع باطل ہو جاتا، قبر والوں سے دعا، فریاد اور مدد طلب کرنے کے تمام غلط دروازے کھل جاتے اور دین اسلام کی پوری بنیاد ہل جاتی جو کہ نہیں ہلی۔
قرآن کا حکم، اور حدیث کا مجموعی سیاق اور صحابہؓ کا طرزِ عمل سب کہتے ہیں کہ یہ روایت خاص موقع معجزہ کی خبر تھی، نہ کہ زندہ دنیا کے لیے مردوں کا دائمی اور عمومی سماع۔ قرآن کا اصلی قاعدہ یہی ہے کہ مردے نہ دعا سنتے ہیں، نہ فریاد، نہ دنیاوی کوئی آواز السمیع صفت صرف اللہ کے لیے ہے۔