کیا اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز ہے؟

قرآن و حدیث کے مطابق، سجدہ صرف اللہ کے لیے خاص ہے۔اللہ تعالیٰ نے سجدے کو عبادت کا سب سے بلند اور عاجزانہ اظہار قرار دیا، اور یہ عمل کسی نبی، ولی، قبر، بزرگ یا انسان کے لیے کرنا قرآن کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

اللہ نے فرمایا

فَسْجُدُوا۟ لِلَّهِ وَٱعْبُدُوا۟
پس اللہ کے لیے سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو۔ النجم :62

سجدہ عبادت کا حصہ ہے، اور قرآن نے عبادت کو صرف اللہ کے لیے مخصوص کیا ہے

وَلَا تَدْعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَـٰهًا ءَاخَرَ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ
اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ القصص :88

قرآن نے سجدے کا حکم صرف اللہ کے لیے دیا، اور انبیاء علیہم السلام کا عمل بھی یہی رہا کہ انہوں نے صرف اللہ کو سجدہ کیا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : لَمَّا قَدِمَ مُعَاذٌ مِنَ الشَّامِ ، سَجَدَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ : مَا هَذَا يَا مُعَاذُ؟ قَالَ : أَتَيْتُ الشَّامَ فَوَافَقْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ وَبَطَارِقَتِهِمْ ، فَوَدِدْتُ فِي نَفْسِي أَنْ نَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَا تَفْعَلُوا ، فَإِنِّي لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِغَيْرِ اللهِ ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا

عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ شام سے واپس آئے تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کو سجدہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’اے معاذ! یہ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا”میں شام گیا تھا، وہاں میں نے دیکھا کہ لوگ اپنے مذہبی پیشواؤں (اسقفوں) اور بڑے پادریوں (بطریقوں) کو سجدہ کرتے ہیں، تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ ہم بھی آپ کے ساتھ ایسا کریں۔”اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ایسا ہرگز نہ کرو۔ اگر میں اللہ کے سوا کسی کے لیے کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔

سنن ابن ماجه – أبواب النكاح – باب حق الزوج على المرأة:1853

لہٰذا، اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرنا، چاہے تعظیم کے طور پر ہو یا عبادت کے طور پر ، قرآن و سنت کے مطابق جائز نہیں، بلکہ یہ توحید کے خلاف ہے۔

تلاش کریں