کیا اسلام میں عبادت صرف صلاۃ و صوم کی پابندی تک محدود ہے؟

عبادت اسلام میں صرف صلاۃ (نماز) اور صوم (روزہ) تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ عبادت ہر اس قول و عمل کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر اور مختار کل سمجھ کر کیا جائے یا اس کی رضا کے لیے کیا جائے، چاہے وہ ظاہری ہو یا باطنی۔

قرآن میں فرمایا گیا
قُلْ إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، لَا شَرِیکَ لَہُ وَبِذٰلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ

کہہ دو: بے شک میری صلاۃ، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں سب سے پہلا فرمانبردار ہوں۔
(سورۃ الانعام: 162-163)

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ عبادت صرف مخصوص اعمال نہیں بلکہ پوری زندگی کا طرزِ بندگی ہے۔ جب کھانا اللہ کے شکر کے ساتھ کھایا جائے، جب تجارت میں دھوکہ نہ دیا جائے، جب زبان سے سچ بولا جائے، جب والدین کی خدمت، رشتہ داروں کا حق، اور معاشرے کی بھلائی کی نیت سے کوئی کام کیا جائے تو یہ سب بھی عبادت کے دائرے میں آتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا
كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ، كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ يَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَيُعِينُ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ فَيَحْمِلُ عَلَيْهَا أَوْ يَرْفَعُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ، وَيُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ

انسان کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ لازم ہوتا ہے۔ ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر اگر وہ انسانوں کے درمیان انصاف کرے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور کسی کو سواری کے معاملے میں اگر مدد پہنچائے، اس طرح پر کہ اسے اس پر سوار کرائے یا اس کا سامان اٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور اچھی بات منہ سے نکالنا بھی ایک صدقہ ہے اور ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور اگر کوئی راستے سے کسی تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دے تو وہ بھی ایک صدقہ ہے۔
(صحيح البخاري:كتاب الجهاد والسير:حدیث: 2989)

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام نے عبادت کو صرف مسجد کی چار دیواری میں محدود نہیں کیا، بلکہ ہر نیک نیت عمل کو عبادت قرار دیا۔ پس، اسلام میں عبادت کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی کا ہر لمحہ، ہر ارادہ، اور ہر عمل اللہ کی رضا کے تابع ہو۔ نیز اللہ کے حکم کے مقابلے میں کسی کی بات مانی جائے گی تو یہ اسے رب بنانے کے مترادف ہے۔(ملاحظہ ہوں سورۃ یس:60)

تلاش کریں