قومِ عاد کو اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ نبی ہودؑ کے ذریعے ہدایت دی۔
قرآن میں ہے کہ
وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُ ۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ
اور ہم نے قومِ عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا، اس نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، کیا تم ڈرتے نہیں؟
(الأعراف: 65)
ہودؑ نے اپنی قوم کو شرک چھوڑنے اور صرف اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دی، لیکن انہوں نے اپنی طاقت اور بڑے بڑے محلات پر غرور کیا اور کہا کہ ہم سے بڑھ کر کوئی طاقتور نہیں۔ نتیجتاً اللہ نے ان پر تیز و تند آندھی کا عذاب نازل کیا جس نے ان کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔ معلوم ہوا کہ صرف دنیاوی طاقت یا عمارتیں انسان کو نہیں بچا سکتیں، بلکہ اصل تحفظ اللہ کی توحید اور اس کی اطاعت میں ہے۔