موسیٰؑ کی غیر موجودگی میں بنی اسرائیل کو بچھڑے کی عبادت پر کس نے لگایا؟

قرآن مجید میں صاف ذکر ہے کہ موسیٰؑ کی غیر موجودگی میں بنی اسرائیل کو بچھڑے کی عبادت پر سامری نے لگایا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْــلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا ھٰذَآ اِلٰـــهُكُمْ وَاِلٰهُ مُوْسٰى ۥ فَنَسِيَ
پھر (سامری نے) اُن کے لیے ایک بچھڑا بنا کر نکال لیا ایک جسم تھا جس کی گائے کی سی آواز تھی تو لوگ کہنے لگے یہ تمھارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے وہ (موسیٰ ) تو بھول گئے۔
(طه: 88)

یہ فتنہ سامری کی سازش تھا، لیکن اصل کمزوری بنی اسرائیل کے دلوں میں شرک کی باقیات تھیں۔ جب انہوں نے موسیٰؑ کی ہدایت کو چھوڑا تو گمراہی میں پڑ گئے۔ معلوم ہوا کہ جب بھی لوگ نبی کی رہنمائی کے بغیر اپنی خواہشات اور گمراہ رہنماؤں کے پیچھے چلتے ہیں تو شرک و بدعت میں گر جاتے ہیں، جیسے بنی اسرائیل سامری کے پیچھے لگ گئے۔

تلاش کریں