لوط علیہ السلام کی بیوی بھی اپنی قوم کی نافرمانی اور خیانت کے انجام سے نہ بچ سکی۔ وہ کفار میں سے ہی تھی، اس لیے اللہ نے اسے بھی انہی کے عذاب میں گرفتار کیا۔ فرمایا
فَاَنْجَيْنٰهُ وَاَهْلَهٗٓ اِلَّا امْرَاَتَهٗ ڮ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِيْنَ
پھر ہم نے لوطؑ کو اور اس کے گھر والوں کو نجات دی، سوائے اس کی بیوی کے، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔
(الأعراف: 83)
اور دوسری جگہ فرمایا کہ
ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّامْرَاَتَ لُوْطٍ ۭ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيْــــًٔا وَّقِيْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيْنَ
اللہ نے کافروں کے لیے نوحؑ کی بیوی اور لوطؑ کی بیوی کی مثال بیان کی؛ وہ ہمارے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں مگر انہوں نے ان سے خیانت کی، تو وہ دونوں ان کو اللہ سے بچا نہ سکے، اور کہا گیا دونوں جہنم میں جانے والوں کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔
(التحریم: 10)
یہ انجام اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ نجات نسب، رشتہ یا خاندان سے نہیں ملتی بلکہ ایمان اور عملِ صالح سے ہے۔ اہلِ ایمان کے لیے اس میں نصیحت ہے کہ نجات صرف ایمان، تقویٰ اور اطاعت میں ہے، چاہے سب سے قریب رشتہ ہی کیوں نہ ہو۔