قرآن نے مؤمن آلِ فرعون (یعنی وہ درباری شخص جو موسیٰؑ پر ایمان لے آیا مگر ایمان کو چھپائے رکھا) کا واقعہ بیان کیا ہے۔ اس نے اپنی قوم کو نہایت حکیمانہ نصیحت کی اور توحید کی طرف بلایا۔
وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْ ۖ وَإِن يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ ۖ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ
اور ایک شخص جو فرعون کے خاندان سے تھا اور ایمان چھپائے ہوئے تھا، بولا: کیا تم ایک آدمی کو صرف اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے، حالانکہ وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیلیں لے کر آیا ہے؟ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر ہے، اور اگر وہ سچا ہے تو تم پر وہ (عذاب) پڑے گا جس کی وہ تمہیں خبر دیتا ہے۔ بےشک اللہ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھنے والا جھوٹا ہو۔
(غافر: 28)
اس مؤمن نے اپنی قوم کو انصاف کی بات سمجھائی کہ محض میرا رب اللہ ہے کہنے پر کسی کو قتل کرنا ظلم ہے۔ اس نے دلیل سے کہا کہ اگر موسیٰؑ جھوٹے ہیں تو نقصان انہیں ہی ہوگا، لیکن اگر وہ سچے ہیں تو انکار کرنے والوں پر عذاب آئے گا۔
اس نصیحت کا اصل پیغام یہ تھا کہ حق کی مخالفت کرنے کے بجائے دلیل کو دیکھو اور انصاف سے فیصلہ کرو۔ اس واقعے سے سبق یہ ہے کہ باطل کے ایوانوں میں بھی کچھ دل حق کی روشنی قبول کرلیتے ہیں، اور وہی مؤمنین توحید کی گواہی کے ذریعے اپنے رب کے سامنے کامیاب ہوتے ہیں۔