فہرست

صفات کا شرک کیا ہےاور اس کی کیا اقسام ہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

قرآن و حدیث سے دوری کی وجہ سے اس  امت میں کافی غلط عقائدداخل ہو گئے ہیں۔ ان میں ایسے بھی عقائد ہیں کہ جو شرک پر مبنی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفات ہیں جن کا ذکر صراحتاً قرآن میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی تمام صفات میں علی وجہ الکمال یکتا و یگانہ ہے اور اُس کی تمام صفات نہ صرف یہ کہ ذاتی ہیں بلکہ ما فوق الاسباب  (کسی سبب کے بغیر)بھی ہیں ۔اللہ تعالیٰ کی کسی صفت میں بھی مخلوق اُس کے مشابہ نہیں ہوسکتی۔اللہ تعالیٰ کی صفات کی بابت مختلف ادوار میں لوگ مختلف انداز کی گمراہیوں کا شکار ہوتے رہے ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ چند اہم نکات کی نشاندہی کردی جائے:

  • اللہ ہر نقص سے پاک اور مخلوق کے مشابہ ہونے سے پاک ہے، اور مخلوق کسی بھی صفت میں اُس کے مشابہ ہونے سے عاجز ہے۔
  • اللہ کے جو اسماء و صفات ،قرآن و احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں ان پر  بغیر کسی کمی، زیادتی، تحریف یا تعطیل (نفی) کے ایمان رکھنا  ضروری ہے۔
  • اللہ کی صفات کی مکمل  حقیقت اور کیفیت کا ادراک کسی کے لیے ممکن نہیں۔

صفات کا شرک کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ کی کسی بھی صفت میں کسی بھی مخلوق کو اُس کے مشابہ یا برابر سمجھنا شرک فی الصفات (صفات کا شرک) کہلاتا ہے۔اور یہ شرک تقریباً ہر دور میں کتابی اور غیر کتابی مشرکین میں پایا جاتا رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ اور مخلوق کی صفات میں مشابہت کی وضاحت

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر مخلوق کے لیے بھی انہی صفات کا نام استعمال کیا ہے جو خالق کائنات کے لیے کیا گیا ہے،  جس سے کچھ مکاتب فکر نے تو  وہاں سے استدلال کرکے صفات کے شرک کا باب ہی کھول لیا۔ اور کچھ کے نزدیک اس حوالے سے مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ دراصل صِفات کے ناموں کی ” لفظی مُشابہت” کے ز ُمرے میں بھی کِسی اور سے منسوب نہیں کی جا سکتیں ، یا یوں کہہ لیجیے ” لفظی مُشابہت” کے باب میں سے بھی اللہ کے عِلاوہ کِسی اور کو اِس صِفات سے متصف نہیں کہا ، لکھا ، سمجھا جاسکتا ،کچھ صاحبان ، اللہ عزّ و جلّ کی صِفات ، اور مخلوق میں کچھ صِفات کے ناموں کی مُشابہت کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ گویا ، معاذ اللہ ، دونوں کی ، یعنی خالق اور مخلوق کی صِفات بھی ایک ہی جیسی ہیں ،یا ، خالق کی صِفات مخلوق بھی اپنا سکتی ہے ،اور اِس طرح وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی کِسی مخلوق کو ، کِسی یا کچھ صِفات میں اُس کے خالق جیسا ہی سمجھنے لگتے ہیں ،اور کچھ لوگ ، کچھ صِفات کے ناموں کی مُشابہت کہ وجہ سے خیال کرتے ہیں کہ ، اللہ تعالیٰ کی جِن صِفات کا کِسی اور مخلوق میں ہونے کا ذِکر کیا گیا ہے ، اور وہ ذِکر اِس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کِسی بھی دُوسری صِفت کِسی مخلوق میں مانا جا سکتا ہے ، اور ایسا ماننا شرک نہیں ہے ۔

یہ خیال ، محض خیال ہی ہے ، اِس کا حقیقت سے سوائے مخالفت کے کوئی اور تعلق نہیں ۔کیونکہ ، اللہ جلّ شانہ کی صِفات کی کیفیت اُس کی ذات پاک کی شان کے مُطابق ہے ، اور مخلوق میں اُسی نام کی کِسی صِفت کا موجود ہونا ، اُس مخلوق کے شخصیت کے مُطابق ، دونوں میں سوائے ناموں کے کوئی مشابہت نہیں ۔خالق کی صِفات ” لفظی مُشابہت” کے ز ُمرے میں بھی کِسی اور سے منسوب نہیں کی جا سکتیں ، یا یوں کہہ لیجیے ” لفظی  مُشابہت” کے باب میں سے بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کے عِلاوہ کِسی اور کو اُن صِفات سے مُتصف نہیں کہا ، لکھا ، سمجھا جاسکتا ،سوائے کِسی ایسی صِفت کے نام کی حد تک جِس صِفت کا مخلوق میں ہونے کا ذِکر خُود خالق اللہ عزّ و جلّ نے فرمایا ہو یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے اُس کی خبر ادا کروائی ہو۔

غور فرمایے کہ اللہ تعالیٰ بھی سمیع ہے بندہ بھی سمیع ہے، اللہ تعالیٰ بھی رؤف ہے، اللہ تعالیٰ کے بندوں میں بھی رؤف ہیں، اللہ تعالیٰ بھی رحیم ہے ، اور اللہ کے بندوں میں بھی رحیم ہیں ،لیکن ، اللہ تعالیٰ کا سمیع ہونا اُس کی ذات پاک کی شان ، اور اُس کی اپنی صِفات کے مُطابق ہے اور بندے کا سمیع ہونا اُس کو دِی گئی صِفات کے اعتبار سے۔

اگر کوئی یہ سمجھے کہ جِس طرح اللہ تعالٰی نے خود کو روؤف اور رحیم فرمایا ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی صِفات میں بھی ، روؤف اور رحیم ہونے کی صِفات کا ذِکر فرمایا ہے ، لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم میں اللہ سُبحانہ ُ و تعالٰی کی صِفات کے جیسی دیگر صِفات بھی تھیں ، یا ہیں ۔جیسا کہ کچھ لوگ ، معاذ اللہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو ہر جگہ حاضر وناضر سمجھتے ہیں ، دُنیا میں تشریف لا کر لوگوں کی مُشکلات دُور کرنے والا سمجھتے ہیں ،اللہ تعالیٰ کے عِلم ء غیب کا مکمل عِلم رکھنے والا سمجھتے ہیں ، جبکہ ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بارے میں ایک قانون مقرر کر رکھا ہے کہ:

﴿۔۔۔ لَيۡسَ كَمِثۡلِهِۦ شَيۡء۔۔۔ ﴾ [الشورى: 11]

’’ اس کی مثال جیسی (کائنات) میں کوئی چیز نہیں ‘‘

یاد رکھیے ، اور خوب اچھی طرح سے یاد رکھیے کہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی ذات پاک ، صِفات مُبارکہ اور ناموں سے متعلق صِرف وہی بات کرنا دُرُست ہے جِس بات کو اللہ تعالیٰ یا اُس کے رسول  محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تائید مُیسر ہو۔اللہ تعالیٰ کی کِسی صِفت کو، کِسی معاملے کو ، کِسی کام کو سمجھنے ، یا ، سمجھانے کے لیے کِسی مخلوق کی کِسی صِفت ، کِسی معاملے، کِسی کام سے مثابہت دینا، اُسے مثا ل بنانا دُرُست نہیں۔ اِسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کی صِفات کے ناموں کی مُشابہت کی وجہ سے کِسی مخلوق کو اُنہی صِفات سے مُتصف سمجھنا بھی قطعاً نا دُرُست ہے ، یا کِسی بھی مخلوق کو اللہ کی صِفات میں سے کوئی صِفت اپنا لینے کے قابل سمجھنا بھی قعطاً نا دُرُست ہے ، بلکہ کِسی بھی مخلوق میں ، اللہ کی صِفات جیسی کوئی صِفت ماننا ، شرک ہے ، خواہ کوئی اِس شرک کو عطائی کہہ کر چھپانے کی کوشش کرے ۔

اللہ تعالیٰ  کی صِفات، اور مخلوق کی صِفات کے ناموں کی مُشابہت سے اُن صِفات کی کیفیات کا ایک جیسا ہونا قطعا مراد نہیں ہوتا ، اور نہ ہی کِسی طور لازم ہے ، اللہ عزّ و جلّ کی صِفات اُس کی ذات پاک اور اُس کی شان کی مُطابق ہیں ، اور مخلوق کو دِی گئی صِفات اُس کی شخصیت کے مُطابق ۔

اس حوالے سے چند اہم نکات ہمیشہ ذہن میں رکھنے چاہیے ہیں کہ:

  1. اللہ تعالی کی تمام صفات  مطلق ہیں ۔یعنی  لامحدود ہیں  جبکہ  مخلوقات کی صفات محدود اور عارضی  ہیں ۔
  2. خالق اور مخلوق کی صفات میں کسی بھی قسم کی کوئی مماثلت یا مشابہت نہیں۔
  3. اللہ تعالی کی تمام صفات  ذاتی ہیں ۔اور مخلوق کی صفات  عطائی ہیں۔
  4. اللہ تعالی کی تمام صفات  ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ کے لیے کامل ہیں۔جبکہ جملہ مخلوقات کی صفات حادث اور فانی  ہیں ۔

اللہ تعالیٰ کی صفات جن کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے

اللہ تعالیٰ کی  صفات جن کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے ،اُن میں سے چند  درج ذیل ہیں:

ہر بات کو جاننے والا(العلیم)

اِس کائنات میں حقیقی علم کا سرچشمہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وہ اوّل تا آخر ، ظاہرو باطن حتیٰ کہ دلوں میں موجود سے وسوسوں سے بھی باخبر ہے۔مالک الملک کے علاوہ کسی بھی اور ہستی کے لیے اِن میں سے کوئی بھی صفت تسلیم کرلیا درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اِس صفت میں شرک قرار پائے گا۔

اس کے مقابلے میں غلط نظریات:

اللہ کے علاوہ کسی اور کو اولین اور آخرین کے علم کا حامل سمجھنا، اللہ کے علاوہ کسی اور کو دل کی باتوں سے باخبر سمجھنا، یا کہانت پر یقین رکھنا۔

غیب کا جاننے والا(عالم الغیب)

اس کائنات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی عالم الغیب ہے ، اور اِس بات کا ذکر پروردگار نے صراحتاً کتاب اللہ میں کیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:

﴿قُل لَّا يَعۡلَمُ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ ٱلۡغَيۡبَ إِلَّا ٱللَّهُۚ ۔۔۔﴾ [النمل: 65]

«کہہ دو کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ  کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے۔۔۔»

انبیاء علیہم السلام کو غیب کی جن باتوں کی  بذریعہ وحی اطلاع فرماتا ہے، اُس کا ذکر کچھ اس انداز میں کیا ہے:

﴿عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ فَلَا يُظۡهِرُ عَلَىٰ غَيۡبِهِۦٓ أَحَدًا؀إِلَّا مَنِ ٱرۡتَضَىٰ مِن رَّسُولٖ فَإِنَّهُۥ يَسۡلُكُ مِنۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهِۦ رَصَدٗا﴾

[الجن: 26-27]

«غیب (کی بات) جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا۔ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے تو اس (کو غیب کی باتیں بتا دیتا اور اس) کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر کر دیتا ہے۔»

البتہ غیب کی خبر اسی وقت تک غیب کہلاتی ہے جب تک بتائی نہ جائے، جب بتادی جائے تو غیب شہود ہوجاتا ہے اور وہ خبر بن جاتی ہے۔ اِس بنیاد پر چند مکاتب فکر نے جو نبی ﷺ کو عالم الغیب ہونے کے قائل ہیں وہ صریح غلطی پر ہیں۔ چہ جائیکہ نبی ﷺ کو غیب کی خبروں سے بذریعہ وحی مطلع کیا گیا لیکن اِس کے باوجود بھی انہیں کسی بھی انداز میں عالم الغیب نہیں کہا جاسکتا کیونکہ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اور قرآن میں خود نبی ﷺ کے اپنی ہی زبان سے اپنے عالم الغیب ہونے کا ذکر صراحتاً موجود ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿قُل لَّآ أَقُولُ لَكُمۡ عِندِي خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ وَلَآ أَقُولُ لَكُمۡ إِنِّي مَلَكٌۖ إِنۡ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّۚ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي ٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡبَصِيرُۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ﴾ [الأنعام: 50]

«کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس الله تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (اللہ  کی طرف سے) آتا ہے۔ کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والے برابر ہوتے ہیں؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے۔»

غوث الاعظم اور فریاد رس

اِس کائنات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو دور اور قریب سے بغیر کسی سبب اور واسطے کے ہر ہر بات کو سننے اور جاننے والا ہے۔ چاہے ایک بے قرار شخص جو قوت گویائی سے محروم ہی کیوں نہ ہو، وہ بھی جب اپنےدل میں پروردگار عالم سے فریاد کرتا ہے، تو اسے بھی سننے اور قبول کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ چنانچہ مالک نے مشرکین سے سوال کیا ہے:

﴿أَمَّن يُجِيبُ ٱلۡمُضۡطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ ٱلسُّوٓءَ وَيَجۡعَلُكُمۡ خُلَفَآءَ ٱلۡأَرۡضِۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ قَلِيلٗا مَّا تَذَكَّرُونَ﴾ [النمل: 62]

«بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے) تو کیااللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو۔»

غوثِ اعظم کا مطلب ہے کہ سب سے بڑا فریاد سننے والا۔ بے شک سب سے بڑا فریاد سننے والا اللہ پاک ہے۔ بے شک اللہ کے سوا کوئی غوثِ اعظم نہیں۔ اگر کسی اور ہستی کو غوث الاعظم سمجھا جائے گا تو یہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌۖ أُجِيبُ دَعۡوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِۖ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لِي وَلۡيُؤۡمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُونَ﴾ [البقرة: 186]

«اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک رستہ پائیں»

چونکہ صرف اللہ ہی غوث الاعظم ہے، اس لیے پکارا جانا بھی صرف پروردگار ہی کا حق ہے، یہ  نصیحت نبی ﷺ  نے ابن عباس ؓ کو نصیحت کرتے ہوئے کہی تھی کہ:

۔۔۔إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ۔۔۔

’’۔۔۔جب بھی سوال کرنا تو اللہ ہی سے سوال کرنا، اور جب بھی مدد چاہنا تو اللہ ہی مدد چاہنا۔۔۔‘‘

(سنن ترمذی: أَبْوَابُ صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالرَّقَائِقِ وَالْوَرَعِ)

نافع و ضار  (نفع اور نقصان پر قادر)

نفع اور نقصان پر قادر ہستی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ کوئی بھی انسان دوسرے انسان کی مدد محض اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ اسباب کے تحت ہی کرسکتا ہے، جب سبب ختم ہوجائے تو مدد نہیں جاسکتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ مطلقاً نفع اور نقصان پر قادر ہستی ہے جو مافوق الاسباب کسی کی بھی مدد کرنے پر قادر ہے، اور پروردگار کی جانب سے ڈالی گئی آزمائش سے نکلنے پر مخلوق میں سے کوئی بھی ہستی قادر نہیں۔ چنانچہ فرمایا:

﴿وَإِن يَمۡسَسۡكَ ٱللَّهُ بِضُرّٖ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَۖ وَإِن يُرِدۡكَ بِخَيۡرٖ فَلَا رَآدَّ لِفَضۡلِهِۦۚ يُصِيبُ بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۚ وَهُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ﴾

[يونس: 107]

«اور اگراللہ تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر تم سے بھلائی کرنی چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔»

ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿قُلۡ أَرَءَيۡتَكُمۡ إِنۡ أَتَىٰكُمۡ عَذَابُ ٱللَّهِ أَوۡ أَتَتۡكُمُ ٱلسَّاعَةُ أَغَيۡرَ ٱللَّهِ تَدۡعُونَ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ؀بَلۡ إِيَّاهُ تَدۡعُونَ فَيَكۡشِفُ مَا تَدۡعُونَ إِلَيۡهِ إِن شَآءَ وَتَنسَوۡنَ مَا تُشۡرِكُونَ﴾ [الأنعام: 40-41]

«کہو ! بھلا دیکھو تو اگر تم پر اللہ  کا عذاب آجائےیا قیامت آموجود ہو تو کیا تم (ایسی حالت میں) اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ اگر سچے ہو (تو بتاؤ)۔ بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو۔ وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انہیں بھول جاتے ہو۔»

اس مسئلے کو مزید صراحت کے ساتھ سمجھانے کے لیے مالک نے نبی ﷺ کے نافع  و ضار ہونے کی نفی بھی قرآن میں بیان فرمادی:

﴿قُل لَّآ أَمۡلِكُ لِنَفۡسِي ضَرّٗا وَلَا نَفۡعًا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۗ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌۚ إِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ فَلَا يَسۡتَ‍ٔۡخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ﴾ [يونس: 49]

«کہہ دو کہ میں اپنے نقصان اور فائدے کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ مگر جواللہ  چاہے۔ ہر ایک امت کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں۔»

اللہ کے علاوہ کسی اور کو پکارنے کے شرک ہونے کی صراحت بھی مالک نے اپنی کتاب میں بیان فرمادی ہے۔ چنانچہ فرمایا:

﴿فَإِذَا رَكِبُواْ فِي ٱلۡفُلۡكِ دَعَوُاْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمۡ إِلَى ٱلۡبَرِّ إِذَا هُمۡ يُشۡرِكُونَ﴾ [العنكبوت: 65]

«پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ ہی  کو پکارتے (اور) خالص اُسی کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو جھٹ شرک کرنے لگے جاتے ہیں۔»

غلط نظریات

اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو مافوق الاسباب مدد کے لیے پکارنا، جیسے یارسول مدد، یا علی مدد، یا غوث مدد، یا پیر بابا مدد، وغیرہ۔

ہمیشہ زندہ رہنے والا(الحی)

ہمیشہ زندہ رہنے والی ذات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔

﴿هُوَ ٱلۡحَيُّ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ فَٱدۡعُوهُ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَۗ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴾ [غافر: 65]

«وہ زندہ ہے (جسے موت نہیں) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو اس کی عبادت کو خالص کر کر اسی کو پکارو۔ ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام جہان کا پروردگار ہے۔»

 باقی ہر شے کو ایک مقررہ وقت تک کے لیے پیدا کیا گیا۔ ہر انسان ایک مقررہ وقت تک کے لیے دنیا میں بھیجا گیا اور اُس کے بعد اُسے موت جیسی اٹل حقیقت سے سابقہ پیش آنا ہے۔

﴿كُلُّ نَفۡسٖ ذَآئِقَةُ ٱلۡمَوۡتِۖ ثُمَّ إِلَيۡنَا تُرۡجَعُونَ﴾ [العنكبوت: 57]

«ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ پھر تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے۔»

 اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لیے اِس صفت کو ماننا اللہ تعالیٰ کی اِس صفت میں شرک ہے۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لیے یہ نظریہ رکھنا کہ اُسے موت نہیں آئے گی، بھی اسے  الحی ماننے کے مترادف ہے جیسا کہ نبی ﷺ کی وفات کے موقعے پر ابو بکر صدیق ؓ کے خطبے سے واضح ہے۔ جب  نبی ﷺ کی وفات  کی خبر سن کر عمر رضی اللہ عنہ  نے جذبات میں آ کر یہ کہا  کہ جو یہ کہے کہ نبی ﷺ کو موت آگئی  تومیں اس کی گردن مار دوں گا ۔ یہ شور سن کی ابوبکر رضی اللہ عنہ حجرے سے باہر آئے اور عمر رضی اللہ عنہ کو خاموش ہونے کے لیے کہا  جب وہ منع نہیں ہوئے تو  ابو بکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اللہ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا :

اَلَا مَنْ کَانَ(مِنْکُمْ)یَعْبُدُ مُحَمَّدًا ﷺ فَاِنَّ مُحَمَّدًا ﷺ قَدْ مَاتَ وَ مَنْ کَانَ(مِنْکُمْ)یَعْبُدُ اللہَ فَاِنَّ اللہَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ

خبردار جو (تم میں سے) جو محمد ﷺ  کی عبادت کرنے والا ہے ۔ (جان لے کہ ) بے شک محمد ﷺ کو موت آگئی اور جو  کوئی ( تم میں سے ) اللہ  کی عبادت کرنے والا ہے  (جان لے کہ)  اللہ زندہ ہے اور اسے موت نہیں آتی۔

صحیح البخاری :  کتاب الجنائز ،باب الدخول علی المیت بعد الموت

اس کے بعد ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں۔

﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ﴾ [الزمر: 30]

تم کو بھی موت آئے گی اور ان سب بھی موت آئے گی ۔

﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ  أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ  وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا  وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ﴾ [آل عمران: 144]

محمدﷺ اس کے سوا کچھ  نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرے ہیں ، تو کیا اگر یہ مر جائیں یا شہید کر دیئے جائیں  تو تم الٹے پیروں پھر جاؤ گے؟

اس خطبہ  میں  ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اللہ  کی صفت الحیی کو لا کر  نبی ﷺ کا الحی ہونے کا انکار کیا ہے پھر ساتھ ہی عبادت کا ذکر کرکے اسے  اللہ کی اس صفت  الحی میں شریک ٹھہرانا قرار دیا ہے۔

رزق عطا فرمانے والا

اللہ تعالیٰ ہی الرازق ہے۔ وہی مخلوق کو کھیلاتا پیلاتا خود نہیں کھاتا وہی اولاد یں دینے والا جھولیاں بھرنے والا ہے۔  وہی جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے رزق روک لیتا ہے۔چنانچہ   فرمایا:

﴿وَمَا مِن دَآبَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَاۚ كُلّٞ فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ﴾ [هود: 6]

«اور زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا نہیں مگر اس کا رزق اللہ کے ذمے ہے وہ جہاں رہتا ہے، اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔ یہ سب کچھ کتاب روشن میں (لکھا ہوا) ہے۔»

ایک اور مقام پر تو مالک نے بندوں سے سوالیہ انداز میں پوچھا ہے کہ کیا زمین و آسمان میں تم کوئی اور بھی رازق پاتے ہو؟

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡۚ هَلۡ مِنۡ خَٰلِقٍ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ﴾ [فاطر: 3]

«اے لوگو! جو انعام تم پر اللہ تعالیٰ نے کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ کیا اللہ کے سوا اور کوئی بھی خالق ہے جو تمہیں آسمان وزمین سے روزی پہنچائے؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس تم کہاں الٹے جاتے ہو۔ »

کائنات کی ہر چیز کی ضرورت پوری کرنے والا اللہ ہے۔ انس و جن ہی نہیں بلکہ ہر چیز ،ہر جاندار کو رزق دینے والا اللہ ہے ۔ جانوروں کو ،آسمان میں اڑنے والے پرندوں کو ، سمندروں میں بسنے والی مخلوق کو کون رزق دیتا ہے بے شک اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے۔

داتا (الوھاب) اور گنج بخش (خزانے بخشنے والا)

داتا کا مطلب ’عطا کرنے والا‘ ( اللہ کی صفت ’الوھاب‘) جبکہ گنج بخش کا مطلب ’خزانے بخشنے والا‘ ہوتا ہے۔ اور مافوق الاسباب یہ  کام صرف اللہ تعالیٰ ہی کرسکتا ہے۔ قرآن میں مالک نے اِس بات کو صراحت کے ساتھ بیان کردیا ہے کہ زمین و آسمان کے خزانے صرف اللہ تعالیٰ ہی ہاتھ میں ہیں:

﴿۔۔۔ وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ۔۔۔﴾ [المنافقون: 7]

«۔۔۔اور آسمانوں اور زمین کے خزانے اللہ ہی کہ ہیں۔۔۔»

﴿أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ﴾ [ص: 9]

«کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب اور بہت عطا کرنے والا ہے»

﴿وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ﴾ [الحجر: 21]

«اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو بمقدار مناسب اُتارتے رہتے ہیں»

کسی انسان کے یہ  شایان ِ شان ہی نہیں کہ اُس کے ہاتھ میں پروردگار کے خزانے ہوں۔ چنانچہ فرمایا:

﴿قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ  وَكَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا﴾ [الإسراء: 100]

«کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے خوف سے (ان کو) بند رکھتے۔ اور انسان دل کا بہت تنگ ہے»

غلط نظریات

اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کو ما فوق الاسباب داتا، گنج بخش سمجھنا ،  کھیتوں مین ہریالی لانے والا، وغیرہ سمجھنا۔

اولادوں سے نوازنے والا

ما فوق السباب اولادوں سے نوازنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، کسی اور نبی، ولی، بزرگ یا پیر کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ اِن کے ہاتھ میں بھی یہ اختیار دیا گیا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی اِس صفت میں شرک ہے۔ چنانچہ فرمایا:

﴿لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ  يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ  يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ﴾ [الشورى: 49]

«(تمام) بادشاہت اللہ ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے۔»

اللہ کے علاوہ جن ہستیوں کو بھی پکارا جاتا ہے وہ کسی چیز کے بھی خالق نہیں۔ چنانچہ فرمایا:

﴿وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتًا وَلَا حَيَاةً وَلَا نُشُورًا﴾ [الفرقان: 3]

«اور (لوگوں نے) اس کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے گئے ہیں۔ اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اُٹھ کھڑے ہونا»

روز جزا کا مالک(مالک یوم الدین)

اللہ تعالیٰ ہی روز جزا کا مالک ہے۔ جیسا کہ فرمایا:

﴿مَٰلِكِ يَوۡمِ ٱلدِّينِ﴾ [الفاتحة: 4]

«(وہی اللہ)انصاف کے دن کا مالک ہے۔»

 اُس دن کوئی بھی کام اُس کی مرضی کے بغیر نہ ہوگا، اور نہ ہی کوئی اُس کی اجازت کے بغیر کلام بھی کرسکے گا۔ شفاعت بھی اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے ہوگی اور صحیح ہوگی (یعنی  مشرکین کے لیے نہیں ہوگی، صرف انہی کے لیے ہوگی جن کے لیے مالک حکم عطا فرمائے)۔ چنانچہ فرمایا:

﴿يَوۡمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ صَفّٗاۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنۡ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَقَالَ صَوَابٗا﴾ [النبأ: 38]

«جس دن روح (الامین) اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے تو کوئی بول نہ سکے گا مگر جس کو ( رحمٰن) اجازت بخشے اور اس نے بات بھی درست کہی ہو۔»

غلط نظریات

کسی بھی ہستی کے بارے میں یہ نظریہ رکھنا کہ وہ اللہ کے سامنے مچل جائیں گے اور اپنے ماننے والوں کو زبردستی جنت میں داخل کروادیں گے۔

مدبر الامور کائنات

اللہ تعالیٰ نے ہی اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اور وہی اِس کائنات کے امور کو تن تنہا چلانے والا ہے۔

﴿إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَ۔۔۔﴾ [يونس: 3]

«تمہارا پروردگار تواللہ  ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش (تخت شاہی) پر قائم ہوا وہی ہر ایک کا انتظام کرتا ہے۔۔۔»

﴿قُلۡ مَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ أَمَّن يَمۡلِكُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَمَن يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَيُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتَ مِنَ ٱلۡحَيِّ وَمَن يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَۚ فَسَيَقُولُونَ ٱللَّهُۚ فَقُلۡ أَفَلَا تَتَّقُونَ﴾ [يونس: 31]

«(ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔ جھٹ کہہ دیں گے کہ اللہ۔ تو کہو کہ پھر تم (اللہ سے) ڈرتے کیوں نہیں؟»