فہرست

وسیلے کا شرک

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ

وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَ لَا يَنْفَعُهُمْ وَ يَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّـُٔوْنَ۠ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِي الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۰۰۱۸

 [يونس: 18]

’’ اور بندگی کرتے ہیں اللہ کے علاوہ ان کی جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ  انہیں کوئی فائدہ، اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے پاس، (ان سے ) کہدو کہ اللہ کو ایسی خبر دیتے ہو جو وہ نہیں جانتا آسمانوں  میں اور نہ زمین میں، پاک ہے اور بلند ہے  وہ ان کے اس شرک سے ‘‘۔

مشرکین مکہ کا یہی طریقہ کار تھا۔ انہوں خانہ کعبہ میں انبیاء علیہ السلام، مریم صدیقہ اور ان لوگوں کے بت رکھے ہوئے تھے جنہیں وہ نیک  و صالح سمجھا کرتے تھے۔( بخاری ،  کتاب الحج ) ( بخاری،  کتاب التفسیر القرآن)۔ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا کہ وہ ان کی عبادت کیا کرتے تھے۔  یعنی انہیں پکارتے تھے، ان سے دعائیں کیا کرتے تھے، ان کے نام کی نذر و نیاز کیا کرتے تھےجیسا کہ ایک حدیث میں نبی ﷺ نےفرمایا :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ وَالْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ کَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِطَوَاغِيتِهِمْ وَالْعَتِيرَةُ فِي رَجَبٍ

( بخاری، کتاب العقیقہ ، بَابُ الفَرَعِ )

’’ ابوہریرہ  ؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا نہ تو فرع اور نہ ہی عتیرہ کوئی چیز ہے اور فرع اونٹنی کے سب سے پہلے بچے کو کہتے ہیں جو مشرکین اپنے طاغوتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے اور عتیرہ اس قربانی کو کہتے ہیں جو رجب میں کی جائے‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ اپنے طاغوتوں ( وہ انسان جو  اللہ کے بندوں کو  اللہ کے نازل کردہ  سے گمراہ کرے، یا اس سے روکے) کے نام پر قربانی کیا کرتے تھے۔ ایک اور حدیث میں ہے :

عن أنس، قال: قال رسول الله ًﷺ« لَا عَقْرَ فِي الْإِسْلَامِ

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ اسلام میں عقر نہیں ہے۔

 قال عبد الرزاق: « كَانُوا يَعْقِرُونَ عِنْدَ الْقَبْرِ بَقَرَةً أَوْ شَاةً 

عبدالرزاق نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ قبروں کے پاس جا کر گائے یابکری ذبح کیا کرتے تھے۔ (اس کا نام عقر ہے)

( سنن ابی داؤد ، کتاب الجنائز، باب: كراهية الذبح عند القبر)

تو یہ تھی ان کی عبادت اور فوت شدہ لوگوں کی شکر گزاری یا خوشنودی حاصل کرنے کا طریقہ۔ یہ سب کیوں تھا ؟ للہ تعالیٰ فرماتا ہے :

اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى

 [الزمر: 3]

’’ خبردار دین خالص  ( خالص عبادت ) اللہ ہی کے لئے ہے، جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ دوسروں کو کارساز بنا لیا ہے ( وہ کہتے ہیں ) ہم ان کی بندگی نہیں کرتے مگر اس لئے کہ  وہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں ۔ ۔  ‘‘

واضح ہوا کہ اللہ کے علاوہ جن جن کی یہ بندگی کرتے تھے وہ محض اس لئے تھی کہ وہ انہیں اللہ کے قریب کردیں ، ہماری دعائیں اللہ تک پہنچا دیں جیسا کہ سورہ یونس کی آیت نمبر 18 میں ان کا عقیدہ بیان کیا گیا  اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ  نے اسے شرک قرار دیا۔ وہ شرک اس لئے کہ   لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ دین خالص صرف اللہ کےلئے ہے، عبادت صرف اللہ کے لئےہے کسی اور کے لئےنہیں۔ جب کسی دوسرے سے دعا کی جائے یا دوسرے کے واسطے اور وسیلے  سے دعا  کی جائے تو  یہ عبادت میں شرک ہو جائے گا اور یوں شرک فی الحقوق اللہ ہوگا۔مشرکانہ دور کا یہ مشرکانہ عقیدہ اس امت میں بھی آ گیا اور  اللہ تعالیٰ کو دعاؤں میں واسطے اور وسیلے دئیے جانے لگے۔

اس میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ

  1. کیا اللہ تعالیٰ کچھ دیر کے لئے سو جاتا ہے ،  کیا اللہ تعالیٰ براہ رست نہیں سن سکتا ؟کہ کوئی دوسرا سن کر اللہ تعالیٰ کو بعد میں بتائے( نعوذوباللہ )۔
  2. کیا فوت شدہ افراد یا کوئی پیر ایسا بھی ہے کہ جس کی بات اللہ تعالیٰ نہیں ٹال سکتا ؟
  3. کیا فوت شدہ انسان اسقدر طاقت ور ہیں کہ دنیا میں ہر ایک پکارنے والے کی پکار سن لیتے ہیں ؟

قرآنی دلائل بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ براہ راست سنتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ  انسان کو اسی کا بات کا حکم دیتا ہے :

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ۠ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَؒ۰۰۶۰

[المومن: 60] 

 ’’ اور تمہارا رب فرماتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا  ، بے شک جو لوگ تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے، عنقریب  ذلیل ہو کر 

جہنم میں داخل ہوں گے ‘‘۔

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ١ؕ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَ لْيُؤْمِنُوْا بِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ۰۰۱۸۶

[البقرة: 186]

’’اور (اے نبی!) جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھیں تو تم انہیں بتا دو کہ میں قریب ہی ہوں، پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار سن کر قبول کرتا ہوں، تو انہیں چاہئے کہ میرا حکم مانیں، اور مجھ پر ہی ایمان رکھیں تاکہ راہ ہدایت پائیں‘ ‘۔

اللہ تعالیٰ نے تو  براہ راست دعا کرنے کا حکم فرمایا ہے کہ براہ راست مجھے پکارو اور فرمایا جب میرا بندہ مجھے پکارتا ہے تو اسی وقت میں اس کی پکار  سن کر قبول فرما لیتا ہوں ، تو پھر کسی کے وسیلےسے دعائیں کیوں ؟ یہاں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے کہ  جب کسی آفیسر کے پاس جانا ہوتا ہے تو پہلے چپراسی کے پاس جاتے ہو، پھر وہ تمہاری درخواست  لیکر جاتا ہے پھر آفیسر سے ملاقات ہوتی ہے۔ اسی طرح پہلے ان فوت شدہ کی خوشنودی حاصل کرو یہ تمہاری  التجائیں اللہ تک پہنچادیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۰۰۷۴

 [النحل: 74]

’’ پس اللہ کے لئے مثالیں  نہ بیان کرو ، اللہ جاننے والا ہے اور تم نہیں جانتے ‘‘۔

بتا گیا کہ انسانوں والی مثالیں اللہ کے لئے نہیں بیان کرو، انسان تو ایک کمرے میں رہ کر دوسرے کمرے کا حال نہیں جانتا لیکن  تمہارا رب تو کائنات کے چپے چپے سے واقف ہے۔

اَلَاۤ اِنَّهُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِيَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَهُمْ١ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَ مَا يُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۰۰۵

 [هود: 5]

’’ آگاہ رہو کہ یہ اپنےسینوں کو موڑ لیتے ہیں  تاکہ اللہ سے چھپے رہیں  اور جب یہ اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانکتے ہیں ، وہ جانتا ہے  جو وہ چھپاتا ہے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں، بے شک وہ خوب جاننے والا ہے سینوں کی باتوں کو‘‘۔

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ۰۰۱۶

 [ق: 16]

’’ اور ہم نے انسان کو بنایا ہے اور ہم جانتے ہیں اس کے دل میں کیا وسوسے اٹھتے ہیں اور ہم اس کی شہہ رگ سے زیادہ قریب ہیں‘‘۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ١ؕ مَا يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۰۰۷

[المجادلة: 7]

’’ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے  جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں،  نہیں ہوتی کوئی سرگوشی تین ( افراد ) کی لیکن چوتھا وہ ہوتا ہے، نہ پانچ کی لیکن چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ جہاں کہیں بھی وہ ہوں  مگر وہ  ان کے ساتھ ہوتا ہے ، پھر جو کچھ بھی  انہوں نےکیا وہ قیامت کے دن انہیں بتا دے گا، بے شک  وہ ہر چیز سے باخبر ہے‘‘۔ 

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ۰۰۵۹

[الأنعام: 59]

’’اور اس ( اللہ ) ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے، وہ جانتا ہے ہے جو کچھ خشکی میں ہے اور جو تری میں ہے، اور نہیں گرتا پتوں میں سےکوئی مگر اس کے علم میں ہوتا ہے اور  نہیں ہے کوئی دانہ زمین کے ان اندھیروں میں  مگر وہ  کھلی کتاب میں موجود ہے ‘‘۔

کیا اتنے عظیم رب کے لئے کسی ایسے وسیلےکی ضرورت ہے کہ وہ اس تک ہماری بات پہنچائے ؟ 

کیا ( نعوذوباللہ ) اللہ تعالیٰ کچھ دیر کے لئے سو جاتا ہے کہ کوئی دوسرا سن کر اللہ تعالیٰ کو بعد میں بتائے۔

آیت الکرسی  میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَيُّ الْقَيُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا يَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ۰۰۲۵۵

 [البقرة: 255]

’’اللہ (ہی معبود) ہے اسکے سوا کوئی الٰہ  نہیں، وہ زندہ اور قائم رکھنے والا ہے ،اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ اسی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے،کون ہے جو بغیر اس کی اجازت کے سفارش کر سکے، جو کچھ انکے آگے اور پیچھے ہے وہ سب جانتا ہے ، اور لوگ اسکے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔اس کی کرسی زمین و آسماں پر چھائی ہوئی ہے، اور ان کی نگرانی اس کو تھکاتی نہیں، وہ اعلیٰ مرتبہ اور عظیم ہے‘‘۔

اب بتائیں اللہ کے علاوہ اس کائنات میں کون ایسا ہے جو کسی بھی لمحے نہ کہیں جاتا ہے، نہ سوتا ہے اور نہ اسے نیند آتی ہے۔ کائنات کی ہر ہر لمحے کی خبر اسے ہے ، ہر ہر مخلوق کا حال اسے معلوم ہے۔ کون بھوکا ہے، کون بیمار ہے، کسے کس چیز کی حاجت ہے اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ اس کے مقابلے میں جن انسانوں کو اس کا وسیلہ بنانے کا کہا جا رہا ہے تو وہ تو اپنی زندگی میں دیوار کے پار کی چیز نہیں دیکھ سکتے تھے، دور کی آواز نہیں سن سکتے تھے اور اب تو  وہ مر چکے ہیں۔ قرآن و حدیث کے بیان کے مطابق ان کا جسم سڑگل گیا ہوگا۔ نہ ان کے کان ہیں کہ وہ اس سے سنیں اورنہ آنکھیں کہ اس سے دیکھیں اور نہ ہی ان  کے اختیار میں کوئی چیز ہے اور نہ وہ کسی چیز کے مالک ہیں۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ ہماری نہیں سنتا اور ان ( بزرگوں ) کی ٹالتا نہیں۔ قرآن میں اللہ نے بتا دیا کہ جب پکارنے والا مجھے پکارتا ہے اسی وقت سنتا اور قبول فرماتا ہوں۔ پھر یہ بھی سامنے آ گیا کہ اللہ ہر چیز سے باخبر ہے اور جنہیں انسان اس کا وسیلہ بنانے کا کہتے ہیں وہ تو مردہ ہیں جو نہ سن سکتے ہیں، نہ جان سکتے ہیں انہیں تو خود اپنے حال کا بھی علم نہیں اور نہ یہ شعور ہے کہ کب زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ اب آخری بات کہ کیا کائنات میں کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کےسامنے مچل جائے اور اپنے بات منوا لے۔ مالک کائنات فرماتا ہے :

قُوَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعْجِزَهٗ مِنْ شَيْءٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِي الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَلِيْمًا قَدِيْرًا۰۰۴۴

[فاطر: 44]

’’ اور اللہ کو تو آسمانوں کی یا زمین کی کوئی چیز بھی عاجز نہیں کرسکتی۔ بلاشبہ وہ سب کچھ جاننے والا اور قدرت والا ہے ‘‘۔

واضح ہو گیا کہ کائنات میں کوئی ایسی چیز نہیں کہ وہ مچل کر اللہ کو عاجز کردے اور اللہ اس کی بات ماننےپر مجبور ہو جائے، یہ سب جھوٹ ہے۔ بھلا کیا مقابلہ خالق و مخلوق کا، ایک رزق دینے والا اور دوسرے رزق لینے والےہیں ، ایک  جس نے ساری کائنات کو بنایاہے  اور ایک وہ جس نے ایک درخت کا ایک پتہ بھی نہ بنایا ۔ سفارش تو  ہمیشہ کم اختیار والا زیادہ اختیار والے کو کرتا ہے، زیادہ علم والا کم علم والے کو سفارش کرتا ہے۔ جب کائنات میں  اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا ذرہ برابر اختیار ہی نہیں رکھتا تو وہ سفارش کیسے کرے گا۔ اسی طرح کسی کا علم اللہ سے بڑھ کر ہے ہی نہیں کہ جسکی وہ اللہ کو  خبر دے سکے۔ بھلا جو ایک ایک لمحے اللہ کا محتاج ہو اور اب مر بھی چکا ہوتو   وہ اللہ کے سامنے مچل اور ضد کرسکتا ہے ؟ ( کبھی بھی نہیں )

ان سارے دلائل سے ثابت ہوا کہ عبادت یعنی دعا براہ راست اللہ تعالیٰ سے کرنی چاہئیے یہی اس کا حق ہے جب انسان اس میں کوئی وسیلہ بناتا ہے تو  اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس آیت نمبر 18 میں اس فعل کو شرک قرار دیا۔

اس سے قبل ہم یہ بات۶ واضح کرچکے ہیں  کہ سابقہ امتیں اپنے مردہ افراد کو اللہ تک وسیلہ کیوں بنایا کرتے تھے۔  قرآن کی دلائل سے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو اس کائنات کے ایک ایک لمحے، ایک ایک مخلوق کا علم ہو تو اس  عظیم رب کے لئے وسیلہ کیوں ۔ اب ہم آتے ہیں وسیلے کی ان شکلوں کی طرف جو جائز ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے ناموں کا وسیلہ :

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دعا کرنے کا طریقہ بتایا :

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا

 [الأعراف: 180]

’’ اور اللہ کے بہترین نام ہیں، ان کے ذریعے  اس سے دعا کرو ‘‘

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى 

 [بنی اسرائیل : 110]

‘‘ ( اے نبی ﷺ ) کہدیں:  تم پکارو اللہ کو یا پکارو رحمٰن کو، کسی بھی  نام سے تم پکارو ( یہ ) سب اللہ کے بہترین نام ہیں ‘‘۔

معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو دعا میں اس کے بہترین ناموں کا واسطہ یا وسیلہ دیا جا سکتا ہے۔ دعا کریں ’’ یا رحمٰن ‘‘ اے رحم فرمانے والے مجھے پر رحم فرما۔ ’’یا  رزاق ‘‘ اے بہترین رزق دینے والے مجھے اچھےسے اچھا رزق عطا فرما ۔

زندہ شخص  کا وسیلہ بنانا :

احایث سے وسیلہ کے کچھ معاملات ثابت ہوتے ہیں کہ جیسے صحابہ ؓ  نبی ﷺ  سےدعا کی درخواست کرتے تھے۔ لیکن جب نبی ﷺ کی وفات ہوگئی تو انہوں نے نبی ﷺ کے وسیلے سے دعا نہیں کی بلکہ نبی ﷺ کے چچا عباس ؓ سے (نبی ﷺ کی نگاہ میں جو ان کا مقام تھا اس وجہ سے )  کرائی۔ 

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ، كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا» قَالَ: فَيُسْقَوْنَ

( بخاری، كتاب أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم،   بَابُ ذِكْرِ العَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ )

’’انس بن مالک ؓ  روایت کرتے ہیں کہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو عمر بن خطابؓ، عباس ؓ بن عبدالمطلب کے وسیلہ سے دعا کرتے اور فرماتے کہ اے اللہ ہم تیرے پاس تیرے نبی ﷺ کا وسیلہ لے کر آیا کرتے تھے تو ،تو ہمیں سیراب کرتا تھا اب ہم لوگ اپنے نبی کے چچاعباس ؓ  کا وسیلہ لے کر آئے ہیں ہمیں سیراب کر، راوی کا بیان ہے کہ لوگ سیراب کئے جاتے یعنی بارش ہوجاتی ‘‘۔ 

اس موقع پر عباس ؓ نے الفاظ کہے وہ اس طرح سے تھے :

أَنَّ الْعَبَّاسَ لَمَّا اسْتَسْقَى بِهِ عُمَرُ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَمْ يَنْزِلْ بَلَاءٌ إِلَّا بِذَنْبٍ وَلَمْ يُكْشَفْ إِلَّا بِتَوْبَةٍ وَقَدْ تَوَجَّهَ الْقَوْمُ بِي إِلَيْكَ لِمَكَانِي مِنْ نَبِيِّكَ وَهَذِهِ أَيْدِينَا إِلَيْكَ بِالذُّنُوبِ وَنَوَاصِينَا إِلَيْكَ بِالتَّوْبَةِ فَاسْقِنَا الْغَيْثَ فَأَرْخَتِ السَّمَاءُ مِثْلَ الْجِبَالِ حَتَّى أَخْصَبَتِ الْأَرْضَ وَعَاشَ النَّاسُ

( الكتاب: فتح الباري شرح صحيح البخاري ۔المؤلف: أحمد بن علي بن حجر ، جزء 2، صفحہ 497 )

’’ جب عمر رضی اللہ نے عباس رضی اللہ عنہ سے بارش کے لئے دعا کروائی تو انہوں نے کہا: اے اللہ نہیں نازل ہوتی کوئی بلاء مگر گناہ کے سبب اور نہیں دور ہوتی مگر توبہ سے ۔ میری اس قوم نے تیرے نبی  ﷺکے نزدیک میرے مقام کی وجہ سے میری توجہ تیری طرف کی ہے اور ہمارے یہ گناہ آلود ہاتھ تیری طرف توبہ کے لئے اکھٹے ہوئے ہیں ، پس ہم پر بارش برسا۔ پس آسمان سے پانی پہاڑ کی طرح کثرت سے برسا یہاں تک کہ زمین زرخیز ہو گئی اور لوگ جی اٹھے‘‘۔

معلوم ہوا کہ کسی زندہ شخص سے دعا کرنا بھی وسیلہ کہلاتا ہے جو کہ جائز وسیلہ ہے،یعنی کسی مومن متقی شخص سے دعا کی درخواست کی جائے اور وہ اللہ سے اس کے لئے دعا کرے۔  انس ؓ بیان کرتے ہیں :

عن أنس بن مالك، قال: كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا في الحلقة، ورجل قائم يصلي، فلما ركع وسجد فتشهد، ثم قال في دعائه: اللهم إني أسألك بأن لك الحمد، لا إله إلا أنت المنان، يا بديع السماوات والأرض، يا ذا الجلال والإكرام، يا حي يا قيوم، إني أسألك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ” أتدرون بما دعا الله؟ ” قال: فقالوا: الله ورسوله أعلم، قال: ” والذي نفسي بيده، لقد دعا الله باسمه الأعظم، الذي إذا دعي به أجاب، وإذا سئل به أعطى “

( مسند احمدِ  ، مسند المكثرين من الصحابة،   مسند أنس بن مالك ؓ )

’’انسؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا صلواۃ ادا کر رہا تھا، رکوع و سجود کے بعد جب وہ بیٹھا تو تشہد میں اس نے یہ دعا پڑھی (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ ) ” اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، نہایت احسان کرنے والا ہے، آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے اور بڑے جلال اور عزت والا ہے۔ اے زندگی دینے والے اے قائم رکھنے والے ! میں تجھ سے ہی سوال کرتا ہوں “۔ نبی ﷺنے فرمایا تم جانتے ہو کہ اس نے کیا دعاء کی ہے ؟ صحابہ ؓ  نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ﷺہی زیادہ جانتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعاء مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے سے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے ‘‘۔ 

اپنے اعمال کا وسیلہ :

عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سابقہ دور کے چند افراد کے بارے میں ایک حدیث بیان کی :

عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قَالَ فَقُلْتُ مَا أَسْتَهْزِئُ بِکَ وَلَکِنَّهَا لَکَ اللَّهُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِکَ ابْتِغَائَ وَجْهِکَ فَافْرُجْ عَنَّا فَکُشِفَ عَنْهُمْ

( بخاری ، کتاب البیوع، بَابُ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا لِغَيْرِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَرَضِيَ )

’’ ابن عمر ؓ     نبی ﷺسے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ تین آدمی جا رہے تھے تو بارش ہونے لگی وہ تینوں پہاڑ کی ایک غار میں داخل ہوگئے ایک چٹان اوپر سے گری اور غار کا منہ بند ہوگیا ایک نے دوسرے سے کہا کہ اللہ سے کسی ایسے اچھے عمل کا واسطہ دے کر دعا کرو جو تم نے کیا ہو ان میں سے ایک نے کہا اے میرے اللہ میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے چناچہ میں باہر جاتا اور جانور چراتا تھا پھر واپس آکر دودھ دوھ کر اپنے ماں باپ کے پاس لاتا جب وہ پی لیتے تو میں بیوی بچوں اور گھر والوں کو پلاتا ایک رات مجھے دیر ہوگئی میں آیا تو دونوں سو گئے تھے مجھے نا گوار ہوا کہ میں انہیں جگاؤں اور بچے میرے پاؤں کے پاس بھوک کے مارے رو رہے تھے طلوع فجر تک میری حالت یہی رہی اے اللہ اگر تو یہ جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری رضا مندی کے لئے کیا ہے تو پتھر مجھ سے کچھ ہٹا دے تاکہ ہم آسمان تو دیکھ سکیں پتھر کچھ ہٹ گیا پھر دوسرے آدمی نے کہا اے اللہ میں اپنی ایک چچا زاد بہن سے بےانتہا محبت کرتا تھا جس قدر ایک مرد عورتوں سے محبت کرتا ہے لیکن اس نے کہا تم اپنا مقصد مجھ سے حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ تم سو دینار نہ دے دو چناچہ میں نے محنت کر کے سو دینار جمع کئے جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھا تو اس نے کہا اللہ سے ڈر مہر ناجائز طور پر نہ توڑ میں کھڑا ہوگیا اور اسے چھوڑ دیا اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری رضا کے لئے ایسا کیا تو اس پتھر کو کچھ ہٹا دے وہ پتھر دو تہائی ہٹ گیا پھر تیسرے آدمی نے کہا یا اللہ میں نے ایک مزدور ایک فرق جوار کے عوض کام پر لگایا جب میں اسے دینے لگا تو اس نے لینے سے انکار کردیا میں نے اس جوار کو کھیت میں بودیا یہاں تک کہ میں نے اس سے گائے بیل اور چرواہا خریدا پھر وہ شخص آیا اور کہا اے اللہ کے بندے تو مجھے میرا حق دیدے میں نے کہا ان گایوں بیلوں اور چرواہے کے پاس جا اور انہیں لے لے یہ تیرے ہیں اس نے کہا کیا تم مذاق کرتے ہو میں نے اس سے کہا میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا وہ تیرے ہی ہیں اے میرے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری خوشنودی کے لئے ایسا کیا تو یہ پتھر ہم سے ہٹا دے چناچہ وہ پتھر ان سے ہٹ گیا‘‘۔ 

اس سے معلوم ہوا کہ انسان اپنے ذاتی اعمال کا وسیلہ بھی دے سکتا ہے کہ اے مالک میں میرےیہ اعمال صرف تیری رضا کے لئے تھے ، مالک انہیں قبول فرما اور ان کی وجہ سے مجھے اس تکلیف سے نکال دے۔

اس بارے میں فرقہ پرستوں کی مغالطہ آ رائیاں :

اس بارے میں فرقہ پرستوں نے امت میں غلط اور مشرکانہ عقائد داخل کردئیے ہیں۔ سب سے پہلے تو قرآن مجید کی ایک آیت پیش کرکے اس سے مردوں کو وسیلہ بنانے کا عقیدہ دیا جاتا ہے لہذا سب سے پہلے اس کو سمجھیں ۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِيْ سَبِيْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۰۰۳۵

[المائدة: 35]

 ’’اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور اس کی قربت کا ذریعہ تلاش کرو ، اور جہاد ( جدوجہد ) کرو اس کی راہ میں تاکہ فلاح پا جاؤ‘‘۔

فرقہ پرست یہاں لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور عربی لفظ  ’’ وسیلہ ‘‘ کا اردو ترجمہ نہیں کرتے اس سے لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خود اللہ کی طرف’’ وسیلہ‘‘ بمعنی’’ ذریعہ‘‘ پکڑنے کا حکم دیا ہے۔عربی لفظ ’’ وسیلہ ‘‘ کے معنی ہیں ’’ قربت ‘‘ یعنی اے ایمان والو !  اللہ سے ڈرو اور اس کی قربت کا ذریعہ تلاش کرو۔  مزید اسی آیت میں اللہ کی قربت کا ذریعہ بھی بتا دیا گیا کہ وَجَٰهِدُواْ فِي سَبِيلِهِۦ   اللہ کی راہ میں جدوجہد کرو۔ یعنی اپنی جان، اپنا   مال ، وقت ، جسم اللہ کی راہ میں لگاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایمان سے نوازا ہے تو تم اپنی زندگیوں کو اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ڈھال لو۔ اب اس کی تبلیغ کے لئے نکلو اور پھر شاید جہاد بالسیف کا بھی وقت آ جائے تو اللہ کی راہ میں کافروں اور مشرکوں کو قتل کرو یا اپنی جان اللہ کی راہ میں لٹا دو۔

حدیث میں وسیلہ کا بیان ملتا ہے اور فرقہ پرست اپنے مقلدین کو گمراہ کرتے ہیں کہ خود نبی ﷺ نے  وسیلے کی دعا سکھائی ہے۔ حدیث میں آتا ہے :

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلاَةِ القَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ “

(بخاری كِتَابُ الأَذَانِ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ النِّدَاءِ)

’’جابر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”جو شخص اذان سنتے وقت یہ دعا پڑھے ( اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلاَةِ القَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ ) تو اس کے لئےقیامت کے دن میری شفاعت  حلال ہو گی”۔

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى الله عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ، لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ»

(مسلم  كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ الْقَوْلِ مِثْلَ قَوْلِ الْمُؤَذِّنِ لِمَنْ سَمِعَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَسْأَلُ لهُ الْوَسِيلَةَ)

“عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے سنا نبی ﷺ کو کہتے ہوئے : جب تم مؤذن سے سنو توکہو جیسے مؤذن کہتا ہے پھر میرے لئے رحمت کی دعا کرو ( درود )،جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا’ اﷲاس پر دس بار درود بھیجے گا۔ پھر میرے لیے اﷲ سے وسیلہ مانگو کیونکہ وسیلہ جنت میں ایک مقام  ہے جو بندگان اﷲ میں سے کسی ایک بندہ کیلئے بنایاگیا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں ۔لہٰذا جو شخص میرے لئے وسیلہ کا سوال کرے گا اس کیلئے میری شفاعت حلال ہوگئی” ۔

واضح ہوا کہ ’’ وسیلہ ‘‘ جنت الفردوس میں ایک اعلیٰ مقام ہے اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ مؤذن جو الفاظ کہتا ہے تم بھی وہی کہو، پھر میرے لئے رحمت کی دعا ( درود ) کرو، اور پھر میرے لئے وسیلے کی دعا کرو، یعنی جودعا نبی ﷺ نے سکھائی ہے وہ کرو۔

اس سے قبل ہم قرآن و حدیث سے یہ بات ثابت کرچکے ہیں کہ مردہ کا اللہ تعالیٰ وسیلہ بنانا ایک مشرکانہ فعل ہے اور  جو طریقہ قرآن و حدیث نے ہمیں بتایا ہے اس کا انکار ہے۔

فرقہ پرست چونکہ قرآن و حدیث سے دور ہوئے اور انہوں نے یہ کفریہ و شرکیہ عقیدہ اپنایا تو وہ اس کے لئے ضعیف روایات کو بنیاد بناتے ہیں۔چنانچہ مستدرک الحاکم کی ایک روایت پیش کرتے ہیں کہ 

”جب آدم ؑ غلطی کے مرتکب ہوئے تو اُنہوں نے یہ دعا کی: اے پروردگار! میں محمدؐ کے وسیلہ سے تجھ سے مغفرت کا خواستگار ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا: اے آدم ؑ! تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کیسے جانتے ہو، حالانکہ میں نے تو اسے ابھی پیدا ہی نہیں کیا؟ عرض کیا: اے اللہ! جب تو نے مجھے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور مجھ میں روح پھونکی تو میں نے اپنا سراُٹھایا اور عرش کے پایوں پر لکھا ہوا دیکھا تھا: لا إلہ إلا اﷲ محمد رسول اﷲ تو میں سمجھ گیا کہ جس کو تو نے اپنے نام کے ساتھ ملا رکھا ہے، کائنات میں اس سے برتر کوئی نہیں ہوسکتا تو اللہ نے فرمایا: میں نے تجھے معاف کردیا اور اگر محمدؐ نہ ہوتے تو میں تجھے پیدا ہی نہ کرتا۔”

(مستدرک حاکم 2/672، دلائل النبوۃ للبیہقی 5/489، تاریخ دمشق 7/ 437 ، الشریعۃ للآجری 973)

یہ روایت “شدید ضعیف” بلکہ “موضوع” ہے۔ 

اسکی سندکا مرکزی راوی “عبد الرحمٰن بن زید بن اسلم ” بالاتفاق  ضعیف   ہے اور اپنے باپ سے (منسوب کر کے) موضوع روایات بیان کرتا ہے اور مذکورہ روایت بھی یہ اپنے والد سے ہی بیان کر رہا ہے۔

ابن حجر نے اسکو ضعیف کہا ہے:

عبد الرحمن بن زيد بن أسلم العدوي مولاهم ضعيف (تقریب 3865)

’’ عبد الرحمن بن زید بن اسلم العدوی ضعیف ہے‘‘۔

ابن حبان نے کہا :

كَانَ مِمَّن يقلب الْأَخْبَار وَهُوَ لَا يعلم حَتَّى كثر ذَلِك فِي رِوَايَته من رفع الْمَرَاسِيل وَإسْنَاد الْمَوْقُوف فَاسْتحقَّ التّرْك

“یہ شخص لاعلمی میں احادیث کو بدل دیا کرتا تھا حتیٰ کہ اس نے بے شمار مرسل روایات کو مرفوع اور موقوف روایات کو مسند بنا دیا ،جس کی وجہ سے یہ محدثین کے نزدیک متروک قرار پایا ۔” (المجروحین 2/57)

ابن جوزی  نے کہا:

ضعفه أحمد وعلي وأبو داود وأبو زرعة وأبو حاتم الرازي والنسائي والدارقطني (الضعفاء والمتروکین 2/95)
” عبدالرحمن بن زیدکو امام احمد بن حنبل ،علی بن مدینی ، ابوداود ، ابوزرعہ ، ابو حاتم رازی ، امام نسائی ، امام دار قطنی رحمہم اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے “۔


یحییٰ بن معین  ، علی بن مدینی  ، امام بخاری  ، امام نسائی  نے بھی اسکو ضعیف کہا ہے ۔(میزان الاعتدال  2/564)

ابن سعد نے اسکو  ضعیف کہا: ۔ 

و قال ابن سعد : كان كثير الحديث ، ضعيفا جدا .

ابن خزیمہ نے برے حافظے والا کہا:

و قال ابن خزيمة : ليس هو ممن يحتج أهل العلم بحديثه لسوء حفظه

الساجی نے منکر الحدیث  کہا:

قال الساجى : و هو منكر الحديث .

الجوزجانی نے ضعیف کہا:

و قال الجوزجانى : أولاد زيد ضعفاء .

اور ابن جوزی نے کہا کہ اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے:

و قال ابن الجوزى : أجمعوا على ضعفه .

(تہذیب التہذیب 6/178-179)

امام حاکم کا تساہل  :

امام حاکم نے اس روایت کو نقل کر کے کہا :  هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ  “یہ حدیث صحیح الاسناد ہے”۔

امام حاکم نے اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد اگرچہ اسے صحیح الاسناد کہا ہے لیکن امام حاکم تصحیح حدیث کے معاملے میں متساہل ہیں کسی روایت کے بارے میں انکی منفرد تصیح قبول نہیں کی جاتی ۔

لہٰذا یہ حاکم کا صریح تساہل ہے  اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ خود حاکم اپنی کتا ب میں  “عبدالرحمن بن زید بن اسلم” کے متعلق یہ صراحت کر چکے ہیں  کہ یہ اپنے باپ سے موضوع احادیث بیان کرتا تھا :

عبد الرَّحْمَن بن زيد بن أسلم روى عَن أَبِيه أَحَادِيث مَوْضُوعَة

(المدخل إلی معرفة الصحیح من السقیم  1/154)

اب ایک طرف تو اس کی “عن ابیہ ” سے مروی روایات کو موضوع قرار دینا اور پھر خود ہی اس روایت کو صحیح السند کہنا صریح تساہل نہیں تو اور کیا ہے؟

امام حاکم کے اسی تساہل کی نشاندہی  امام ذہبی نے ان الفاظ میں کی ہے:

ان في المستدرك أحاديث كثيرة ليست على شرط الصحة بل فيه أحاديث موضوعة شان المستدرك بإخراجها فيه  (تذکرۃ الحفاظ 3/1042)

”بلاشبہ المستدرک میں بکثرت ایسی احادیث موجود ہیں جوصحیح حدیث کی شرط کے مطابق نہیں بلکہ اس میں موضوع احادیث بھی ہیں جن کا تذکرہ مستدرک پر ایک دھبہ ہے۔”

حاکم کے اسی تساہل کی بنا پر انکو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ذہبی مستدرک کی تلخیص میں حاکم کی اس تصیح پر تعاقب کرتے ہوئے  لکھتے ہیں:

[التعليق – من تلخيص الذهبي] 4228 – بل موضوع و عبد الرحمٰن واہ ، رواہ عبد اللہ بن مسلم الفھری ولا ادری من ذا (ذیل المستدرک 2/723)

 ”بلکہ یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے اوراس کا راوی عبدالرحمن انتہائی ضعیف ہے اور میں اس کے دوسرے راوی عبد اللہ بن مسلم فہری کے بارے میں نہیں جانتا کہ یہ کون ہے؟”۔

حافظ ذہبی نے میزان الاعتدال میں فہری  (اس روایت کے راوی) کا تذکرہ کیا ہے اور اس کی اسی مذکورہ  روایت کو باطل قرار دیا ہے:

عبد الله بن مسلم أبو الحارث الفهري:روى عن إسماعيل بن مسلمة ابن قعنب، عن عبد الرحمن بن يزيد بن اسلم خبرا باطلا فيه: يا آدم لولا محمد ما خلقتك.

(میزان الاعتدال 2/504)

ابن حجر نے  حاکم کی تصیح پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے لکھا:

ومن العجيب ما وقع للحاكم أنه أخرج لعبد الرحمن بن زيد بن أسلم. وقال بعد روايته:

“هذا صحيح الإسناد، وهو أول حديث ذكرته لعبد الرحمن”4. مع أنه قال في كتابه الذي جمعه في الضعفاء:

“عبد الرحمن بن زيد بن أسلم روى/(ر26/ب) عن أبيه أحاديث موضوعة لا يخفى على من تأملها من أهل الصنعة أن الحمل فيها عليه”.

فكان هذا من عجائب ما وقع له من التساهل والغفلة.(النکت 1/318-319)

“اور یہ عجیب بات ہے کہ حاکم نے عبد الرحمٰن بن زید کی روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا : 

‘یہ روایت صحیح الاسناد ہے اور یہ عبد الرحمٰن کی ذکر کردہ پہلی روایت ہے (مستدرک میں)’ ، 

باوجود اس کے اپنی کتاب، جس میں انھوں نے الضعفاء کو جمع کیا ، کہا: 

‘ یہ اپنے باپ سے موضوع احادیث بیان کرتا تھا۔ غور کرنے سے اس فن کے ماہرین پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اس حدیث کا دارو مدار اس عبدالرحمن بن زید پر ہے ‘،

(ابن حجر کہتے ہیں) یہ ان عجائب میں سے ہے جو ان  (حاکم ) سے تساہل اور غفلت کی بنا پر ہوا  “۔

الحاصل

اس ساری بحث کا منطقی نتیجہ یہی ہے کہ یہ روایت موضوع ہے۔

اوپر بیان کردہ  توضیحات سے یہ حقیقت  واضح ہو جاتی ہے کہ یہ حدیث  امام حاکم کے نزدیک بھی موضوع ہے کیونکہ وہ خودعبدالرحمن بن زید کو ضعیف اور ناقابل اعتبار قرار دے چکے ہیں ۔

 چنانچہ امام ناصرالدین البانی  لکھتے ہیں:

”جو شخص امام حاکم کے سارے کلام پر غور کرے گا، اس پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ یہ حدیث خود امام حاکم کے نزدیک بھی موضوع ہے”۔ 

(التوسل انواعہ واحکامہ، ص 105)

نبی ﷺ کو دعا میں وسیلہ بنانا

دیوبندی تبلیغی جماعت کی فضائل اعمال میں ایک روایت درج کی گئی ہے کہ  آدم علیہ السلام نے نبی کے وسیلے سے دعا مانگی  تو اللہ نے اسے قبول فرمایا اور انہیں معاف فرمایا۔ اس بارے میں بیان کردہ مختلف روایات کا ملخص یہ ہے :

’’آدم علیہ السلام سے جو گناہ ہوا اس کی سزا کی پاداش میں انہیں جنت سے نکال کر زمین پر بھیجا گیا۔وہ اس زمین پر روتے رہے اور اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی معافی مانگتے رہے، آخر کار جب نبی کے وسیلے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا‘‘۔

بقول ان لوگوں کے آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی  اس کے الفاظ یہ تھے :

’’میں محمدؐ کے وسیلہ سے تجھ سے مغفرت کا خواستگار ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا: اے آدم ؑ! تم محمد کے متعلق کیسے جانتے ہو، حالانکہ میں نے تو اسے ابھی پیدا ہی نہیں کیا؟ عرض کیا: اے اللہ! جب تو نے مجھے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور مجھ میں روح پھونکی تو میں نے اپنا سراُٹھایا اور عرش کے پایوں پر لکھا ہوا دیکھا تھا: لا إلہ إلا اﷲ محمد رسول اﷲ تو میں سمجھ گیا کہ جس کو تو نے اپنے نام کے ساتھ ملا رکھا ہے، کائنات میں اس سے برتر کوئی نہیں ہوسکتا تو اللہ نے فرمایا: میں نے تجھے معاف کردیا اور اگر محمدؐ نہ ہوتے تو میں تجھے اور نہ کائنات  پیدا ہی نہ کرتا۔‘‘

ان کے اس بیان سے ثابت ہوا:

  •   آدم علیہ السلام اور بی بی حوا کو سزا کی بنأ پر زمین پر بھیجا گیا۔
  • انہوں نے  اپنے الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو  انہیں زمین پر معاف کردیا گیا۔

یہ عقیدہ سراسر قرآن کے خلاف ہے کیونکہ قرآن سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سزا کے طور پر زمین پر نہیں بھیجا بلکہ  زمین پر بھیجنے سے قبل ہی معاف کردیا تھا:

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ٞ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰىۖ۰۰۱۲۱ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيْهِ وَ هَدٰى ۰۰۱۲۲

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّيْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَ لَا يَشْقٰى۰۰۱۲۳

[طه: ۱۲۱ تا ۱۲۳]

’’ چنانچہ ان دونوں نے اس درخت سے کھا لیا  تو ان کے ستر عیاں ہو گئے اور وہ جنت کے  پتوں کو اپنے اوپر لگانے لگے۔ آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی پس وہ راہ سے بہک گیا۔ پھر اس کے رب نے اسے برگزیدہ کیا ،اسے معاف کیا اور ہدایت دی۔ فرمایا: تم دونوں ( انسان اور شیطان ) یہاں سے اتر جاو ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ پھر جب  تمہارے پاس میرے طرف سے ہدایت پہنچے ، تو جس نے اس کی پیروی کی تو وہ نہ  بہکے گا اور اور نہ ہی تکلیف میں پڑے گا۔‘‘ 

قرآن مجید میں بیان کردیا گیا کہ آدم علیہ السلام نے معافی مانگی، اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کیا اور انہیں ہدایت دے کر اس زمین پر بھیجا۔ اس کے بعد اس بات کا تصور ہی نہیں رہتا کہ انہوں نے زمین پر آکر اپنی اس خطا کی دوبارہ معافی ہوگی ۔مزید دیکھیں قرآن کس واضح انداز میں بیان کرتا ہے کہ یہ  معافی کس وقت مانگی گئی۔

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۰۰۲۲قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۰۰۲۳قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ۰۰۲۴

[الأعراف: 22-24]

’’ پھر ( شیطان ) نے ان دونوں کو دھوکے سے اپنی طرف مائل کرلیا ، پس جب انہوں نے اس درخت کو چکھا تو شرمگاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھل گئیں اور وہ اپنے اوپر جنت کے پتے ڈھاپنے لگے، تو ان کے رب نے انہیں پکارا اور کہا کہ کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔دونوں نے کہا :  ’’اے ہمارے رب ہم دونوں نے اپنے اوپر ظلم کیا، اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا اور ہم رحم نہیں کرے گا تو یقینا ہم زبردست نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے‘‘۔ ( اللہ تعالیٰ نے )کہا نکل جاؤ  ، تم ( انسان و شیطان ) ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لئے ایک خاص وقت تک کے لئے زمین پر ٹہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے ۔‘‘   

واضح ہوا کہ یہ معافی اسی وقت مانگی گئی تھی کہ جب یہ خطا سرزد ہوئی تھی، معافی قبول کرنے کے بعد انہیں زمین پر بھیجا گیا۔

 قرآن میں مزید بیان کیا گیا:

وَ قُلْنَا يٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ۰۰۳۵

فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ۰۰۳۶فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۰۰۳۷قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا١ۚ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّيْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۰۰۳۸وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَؒ۰۰۳۹

 [البقرة: ۳۵ تا ۳۹]

’’ اور ہم نے کہا: اے آدم تم اور تمہاری بیوی  جنت میں رہو اور جہاں سے جو چاہے کھاؤ مگر اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ لیکن شیطان نے انہیں بہکا کر وہاں سے نکلوا دیا جہاں وہ تھے، ہم نے کہا : تم دونوں نکل جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور ایک خاص مدت تک تمہارے لئے زمین پر ٹہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے ۔ آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھ لیے (اور توبہ واستغفار کی ) تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ہم نے کہا : نکل جاؤ تم سب ، پھر جب میری ہدایت تم تک پہنچے تو جس نے اس ہدایت کی پیروی کی اس کے لئے کوئی خوف نہیں اور نا ہی وہ  غمزدہ ہوگا۔ اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کا کفر کیا اور انہیں جھٹلایا تو وہ جہنمی ہیں ،جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ 

قرآن کے فرمان سے واضح ہوا کہ آدم علیہ السلام سےخطا ہوئی اور ان دونوں نے اسی وقت اللہ سےکچھ کلمات سیکھے اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کی ۔ توبہ کے الفاظ بھی سورہ اعراف میں بیان کردئیے گئے ہیں :

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۰۰۲۳

( اعراف: 23 )

’’دونوں نے کہا اے ہمارے رب،ہم نے ظلم کیا اپنی جانوں پر اور اگر  تو نے ہمیں معا ف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم پر تو ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی توبہ کو قبول فرمایا ، اور پھر اپنے طے شدہ نظام کے تحت انسان اور شیطان کو زمین پر بھیج دیا اور ساتھ ہی اس بات کی بھی ہدایت کردی کہ یاد رکھنا شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، اب میری طرف سے ہدایات پہنچیں گی جس کسی نے ان ہدایات کی پیروی کی تو واپسی پر اس کے لئے کسی قسم کا کوئی خوف و غم نہیں ہوگا ، برخلاف اس کے اللہ کی آیات کا کفر کرنے اور انہیں جھٹلانے والا جہنمی ہے جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔

قرآن کی لاریب آیات سے اس  قسم کی جھوٹی روایات اور  اس پر ایمان بنانے والوں کے جھوٹے عقائد کی مکمل نفی ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو سزا کے طور پر زمین پر بھیجا تھا۔ بلکہ  واضح انداز میں بیان ہے کہ انہیں معاف فرما کر ، ہدایات دے کر زمین پر بھیجا گیا، ساتھ ہی قرآن میں ان کی توبہ کے الفاظ بھی بیان کردئیے گئے۔

صحابہ کرام ؓ نے نبی ﷺ زندگی میں ان کے وسیلےسے  دعا کی لیکن ان کی وفات کے بعد ایسا کبھی نہ ہوا۔نبی ﷺ کے وسیلے سے دعا کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی زندگی میں ان سے دعا کی درخواست کی جاتی تھی، وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ بارش نازل فرما دیتا تھا۔ اب جب نبی ﷺ کی وفات ہو گئی تو عمر ؓ نے نبی ﷺکے چچا عباس ؓ کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کی۔  

پیش کردہ دلائل سے یہی ثابت ہوا کہ دعا کرنا ایک عبادت ہے اور یہ صرف اللہ سے کی جائے اور اس دعا میں کسی کا واسطہ یا وسیلہ دے کر اسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہ کیا جائے۔