اللہ تعالیٰ نے شعیبؑ کی قوم مدین کو ان کے انکار اور ناپ تول میں خیانت کے جرم پر رجفہ (شدید زلزلہ) اور صَیحَة (زور دار آواز/چیخ) کے عذاب سے ہلاک کیا۔
فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
پھر انہیں زلزلے نے آپکڑا۔ چنانچہ صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے تھے۔
(الأعراف: 91)
اور ایک اور مقام پر فرمایا
وَاَخَذَتِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دِيَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ
اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا، انہیں ایک چیخ نے آپکڑا، پھر صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے تھے۔
(هود: 94)
قومِ مدین پر بہت زور دار آسمانی چیخ اور زلزلہ آیا جس نے انہیں یک دم ہلاک کر دیا۔ قرآن نے دونوں الفاظ استعمال کیے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ نے ان پر ہلاکت کا دوہرا عذاب اتارا زمین کی لرزش اور آسمان کی مہلک آواز تھی۔