فہرست

زیارت قبر نبوی ﷺ کی روایات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ

نبیﷺ نے فرمایا :

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «لَعَنَ اللَّهُ اليَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا»، قَالَتْ: وَلَوْلاَ ذَلِكَ لَأَبْرَزُوا قَبْرَهُ غَيْرَ أَنِّي أَخْشَى أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا

( بخاری، کتاب الجنائز، بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ اتِّخَاذِ المَسَاجِدِ عَلَى القُبُورِ )

’’عائشہ ؓ سے روایت کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے جس مرض میں وفات پائی، اس میں فرمایا کہ اللہ یہود و نصاری پر لعنت کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کوعبادت گاہ بنالیا۔ عائشہ ؓنے بیان کیا کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ کی قبر ظاہر کردی جاتی، مگر مجھے ڈر ہے کہ کہیں عبادت گاہ نہ بنالی جائے‘‘۔

أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ

( مسلم ، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ ، بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ )

’’آگاہ ہوجاؤ کہ تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور نیک لوگوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا تم قبروں کو عبادت گاہ نہ بنانا میں تمہیں اس سے روکتا ہوں‘‘۔

قبروں کو عبادت گاہ بنا لینا سے مراد قبروں کی زیارت کرنا انہیں پوچنا ہے۔نبیﷺ کی وفات ان کی قبر کی زیارت کرنے کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ نبیﷺ کی قبر تو عائشہ ؓ کے گھر میں تھی۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں :

وَلَوْلاَ ذَلِكَ لَأَبْرَزُوا قَبْرَهُ غَيْرَ أَنِّي أَخْشَى أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا

( بخاری، کتاب الجنائز، بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ اتِّخَاذِ المَسَاجِدِ عَلَى القُبُورِ )

’’اگر ایسا نہ ہوتا تو ان  ( نبی ﷺ ) کی قبر ظاہر کردی جاتی، مگر مجھے ڈر ہے کہ کہیں عبادت گاہ نہ بنالی جائے‘‘۔

بعد میں جب دین سے دوری ہوئی اور قبروں کو پوچا جانے لگا تو نبیﷺ کی قبر کی زیارت کی روایات بھی گھڑی گئیں۔الحمد للہ اسماء الرجال کے علم کے ذریعے محدثین نے ان روایات کی حقیقت کھول کر رکھ دی۔ اس مضمون میں ہم ایسی ہی روایات پر محدیثن کے بیانات پیش کر رہے ہیں۔

1۔ 

من حج إلى مكة ثم قصدني في مسجدي كتبت له حجتان مبرورتان. “الديلمي عن ابن عباس”

(کنز العمال 5/135 )

“جس نے مکہ کا حج کیا پھر میری مسجد کا قصد کیا اس کے لئے دو قبول شدہ حج لکھے جائیں گے”۔

اس کی سند اس  طرح سے ہے:

“حدثنا أبو الحسن حامد بن حماد بن المبارك السر من رائي بنصيبين، حدثنا أبو يعقوب إسحاق بن سيار بن محمد النصيبي، حدثنا أسيد بن زيد، حدثنا عيسى بن بشير عن محمد بن عمرو عن عطاء، عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم۔۔۔۔۔۔۔”۔

یہ روایت موضوع ہے ۔

اس کا  راوی “اسید بن زید” شدید مجروح ہے۔

ابن معین نے اسکو کذاب کہا۔ (میزان الاعتدال 1/257)

نسائی نے اسکو متروک الحدیث کہا۔

( الضعفاء والمتروكين للنسائي ص55 الطبعة المحققة طبعة مؤسسة الكتب الثقافية.)

ابن حبان نے کہا :

يروي عن شريك والليث بن سعد وغيرهما من الثقات المناكير (المجروحين 1/171.)

“یہ شریک و لیث وغیرہ جیسے ثقات سے منکر روایات بیان کرتا ہے “۔

ابن عدی نے کہا:

يتبين على روايته الضعف، وعامة ما يرويه لا يتابع عليه (الكامل لابن عدي 1/391 – 392.)

“اسکی روایات کا ضعف واضح ہے اور اس کی عمومی روایات کی کوئی متابعت نہیں کرتا”۔

ابن ماکولا نے اسے ضعیف کہا۔  (الإكمال لابن ماكولا 1/55)

اس روایت  کا ایک اور  راوی “عیسیٰ بن بشیر” غیر معروف ہے ۔

ذہبی اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

لا يدري من ذا، وأتى بخبر باطل،   ” نہیں جانتا کہ یہ کون ہے؟ یہ ایک باطل خبر لایا ہے  “۔

یہ کہہ کر ذہبی نے اس روایت کو پیش کیا:

فقال إسحاق ابن سيار النصيبى: حدثنا أسيد بن زيد الجمال، حدثنا عيسى بن بشير، عن محمد بن عمرو، عن عطاء، عن ابن عباس – يرفعه: من حج ثم قصدني في مسجدي كتبت له حجتان مبرورتان.

پھر کہا:

تفرد به أسيد، وهو ضعيف ولا يحتمله.   “اس میں اسید کا تفرد ہے اور وہ ضعیف ہے “۔   (میزان الاعتدال 3/310)

  ” مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي بَعْدَ وَفَاتِي فَكَأَنَّمَا زَارَنِي فِي حَيَاتِي “

“جس نے حج کیا پھر اس نے میری موت کے بعد میری قبر کی زیارت کی وہ ایسے ہے جیسے اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی “۔

اس کو  دارقطنی نے (سنن دارقطنی  2/278) میں، بیہقی نے (سنن الکبریٰ 5/245)  اور (شعب الایمان  3/489) میں، طبرانی نے (المعجم الکبیر 12/406 ،  المعجم الاوسط  287، 3376) میں،الفاکھی نے (اخبار مکۃ  1/435) میں، الجوزی نے (مثیر الغرام  2/295) میں،

“حفص بن سليمان أبي عمر عن الليث بن أبي سليم عن مجاهد عن عبد الله بن عمر مرفوعا”کے طریق سے نقل کیا ہے۔

یہ روایت موضوع ہے۔

اس کا راوی  “حفص بن سلیمان ” متھم بالوضع ہے۔

ابن حجر نے کہا:

“متروك الحديث ”   متروک الحدیث ہے”۔ (تقریب 1405)

ابن معین نے کہا:

ليس بثقة.  “ثقہ نہیں ہے”۔

ليس بشئ.  “یہ کوئی شے نہیں”۔

بخاری نے اسے متروک کہا۔  وقال البخاري: تركوه.

ابوحاتم نے اسے متروک کہا:

وقال أبو حاتم: متروك لا يصدق.

ابن خراش نے کہا:

وقال ابن خراش: كذاب يضع الحديث.    “کذاب ہے، حدیثیں وضع کرتا ہے”۔

ابن عدی نے کہا:    

وقال ابن عدي: عامة أحاديثه غير محفوظة.  “اسکی روایات غیر محفوظ ہوتیں ہیں”۔

ابن حبان نے کہا اسناد کو خلط ملط کرتا ہے ، لوگوں سے کتب لے کر بغیر سماع کے روایات بیان کرتا ہے:

وقال ابن حبان: يقلب الأسانيد، ويرفع المراسيل، وكان يأخذ كتب الناس فينسخها ويرويها من غير سماع.

(میزان الاعتدال 1/558)

نسائی نے کہا:

ليس بثقة ولا يكتب حديثه، وقال مرة: متروك الحديث

“ثقہ نہیں ہے اور اس کی حدیث نہ لکھی جائے، پھر کہا متروک الحدیث ہے”۔

 ( الضعفاء والمتروكين للنسائي ص82.)

دارقطنی نے اسے ضعیف کہا۔  (الضعفاء والمتروكين للدارقطني ص185)

اس کے دوسرے راوی “لیث بن ابی سلیم ” میں بھی ضعف  وحافظے کی خرابی ہے۔

محمد بن طاہر المقدسی نے اس روایت کو نقل کرکے کہا:

وحفص هذا هو ابن سليمان الغاضري القارئ ، متروك الحديث .

(ذخیرۃ الحفاظ 4/2261)

“اور حفص (اس روایت کا راوی) متروک الحدیث ہے”۔

بیہقی نے اس روایت کو نقل کر کے کہا:

تفرد به حفص وهو ضعيف

“اس میں حفص کا تفرد ہے اور وہ ضعیف ہے”۔

    مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ وَلَمْ يَزُرْنِي فَقَدْ جَفَانِي

“جس نے بیت اللہ کا حج کیا اور میری  (قبر کی)  زیارت نہ کی تو اس نے مجھ سے بے رخی برتی “۔

یہ روایت بھی موضوع ہے۔

ابن حجر لکھتے ہیں:

وَرَوَاهُ الْخَطِيبُ فِي الرُّوَاةِ عَنْ مَالِكٍ فِي تَرْجَمَةِ النُّعْمَانِ بْنِ شِبْلٍ، وَقَالَ: إنَّهُ تَفَرَّدَ بِهِ عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِلَفْظِ: «مَنْ حَجَّ وَلَمْ يَزُرْنِي فَقَدْ جَفَانِي» . وَذَكَرَهُ ابْنُ عَدِيٍّ، وَابْنُ حِبَّانَ فِي تَرْجَمَةِ النُّعْمَانِ، وَالنُّعْمَانُ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: الطَّعْنُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى ابْنِهِ لَا عَلَى النُّعْمَانِ،

(تلخیص الحبیر 2/509)

“اس کو خطیب نے نعمان بن شبل کے ترجمہ میں اسکی عن مالک سے روایات میں روایت کیا ہے اور کہا: کہ یہ اس کا عن مالک عن نافع عن ابن عمر اس ان الفاظ “جس نے حج کی اور میری زیارت نہ کی تو اس نے مجھ سے بے رخی برتی” کے ساتھ تفرد ہےاور اسکو ابن عدی اور ابن حبان نے نعمان کے ترجمہ میں ذکر کیا ، اور نعمان ضعیف ہے اور دارقطنی نے کہا: اس روایت کا اصل طعن ابن نعمان (محمد بن محمد بن نعمان)  پر ہے نہ کہ نعمان پر “۔

ذہبی نے اسکو موضوعات میں لکھا ہے:

حديث من حج ولم يزرني فقد جفاني وضع على مالك عن نافع عن ابن عمر آفته محمد بن محمد بن النعمان بن شبل عن جده عن مالك

(تلخیص کتاب الموضوعات للذہبی 1/211)

“اسکو مالک عن نافع عن ابن عمر سے وضع کیا گیا ، اس روایت کی مصیبت محمدبن محمد النعمان بن شبل عن جدہ عن مالک ہے”۔

ابن حبان نے نعمان بن شبل کے ترجمہ میں لکھا:

يَأْتِي عَن الثِّقَات بالطامات وَعَن الْأَثْبَات بالمقلوبات

“نعمان بن شبل ثقہ و ثبت راویوں سے مصائب آمیز اور مقلوب روایتیں بیان کرتا ہے “

یہ کہہ کر ابن حبان نے اس روایت کو نقل کیا:

رَوَى عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَن بن عُمَر قَالَ قَالَ رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ وَلَمْ يَزُرْنِي فَقَدْ جَفَانِي أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ بِهَمْدَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُود بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ شِبْلٍ أَبُو شِبْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَدِّي قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ بن عمر رَضِي الله عَنهُ

(المجروحین للحبان 3/73)

دارقطنی نے نعمان کے ترجمہ میں اس روایت کو ذکر کر کے کہا:

هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، عَنِ النُّعْمَانِ إِلا مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ ابْنِهِ عَنْهُ، وَالطَّعْنُ فِيهِ عَلَيْهِ، لَا عَلَى النُّعْمَانِ

(تعلیقات الدارقطنی علی المجروحین 1/272)

“یہ حدیث غیر محفوظ ہے نعمان سے یہ روایت صرف اسکا بیٹا بیان کرتا ہے اور اصل میں طعن اسی میں ہے نہ کہ نعمان پر”۔

یعنی دارقطنی کے مطابق اس روایت کے وضع کا طعن “محمد بن محمد بن نعمان” پر ہے۔

ابن تیمیہ نے کہا:

كَذِبٌ فَإِنَّ جَفَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَامٌ وَزِيَارَةُ قَبْرِهِ لَيْسَتْ وَاجِبَةً بِاتِّفَاقِ الْمُسْلِمِينَ

(المجموع الفتاویٰ 18/342)

“یہ روایت جھوٹ ہے کیونکہ نبی ﷺ سے بے رخی حرام ہے ، اور آپﷺ کی قبر کی زیارت واجب نہیں اس پر مسلمین کا اتفاق ہے”۔

ابن تیمیہ نے اس روایت ، اور زیارت قبور سے متعلق اسی طرح کی چند روایات کو نقل کر کے کہا:

هذه الأحاديث كلها مكذوبة موضوعة

(اقتضاء الصراط 1/401)

“یہ احادیث تمام کی تمام جھوٹی اور موضوع ہیں”۔

مزید کہا:

لم يروه أحد من أهل العلم بالحديث، بل هو موضوع على رسول الله صلّى الله عليه وسلّم، ومعناه مخالف الإجماع، فإن جفاه  الرسول صلّى الله عليه وسلّم من الكبائر، بل هو كفر ونفاق… وأما زيارته فليست واجبة باتفاق المسلمين).

(دعاوی المناوئین 1/245)

“اس روایت کو حدیث کے کسی اہل علم نے روایت نہیں کیا، بلکہ یہ موضوع ہے اور اس کے معنی اجماع کے مخالف ہیں کیونکہ آپﷺ سے بے رخی کبیرہ گناہوں میں سے ہے بلکہ کفرو نفاق ہے اور آپ ﷺ کی (قبر کی) زیارت واجب نہیں اس پر مسلمین کا اتفاق ہے”۔

ابن جوزی نے اسکا ذکر موضوعات میں کرنے کے بعد مذکورہ بالا ابن حبان اور دارقطنی کے اقوال نقل کئے۔

” من حج البيت ولم يزرني فقد جفاني “.

قال ابن حبان:

” النعمان يأتي عن الثقاة بالطامات.

وقال الدارقطني: الطعن في هذا الحديث من محمد بن محمد لا من النعمان.

(الموضوعات لابن الجوزی 2/217)

محمد بن طاھر المقدسی نے اسکا ذکر موضوعات میں کیا:

من حج البيت ولم يزرني فقد جفاني

 (معرفۃ التذکرۃ فی الاحادیث الموضوعۃ  1/128)

زرقانی نے اسکو نقل کر کے کہا:

ولا يصح. “یہ روایت صحیح نہیں”۔

(شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ 12/181)

یہی بات سخاوی نے اس کو نقل کر کے کہی :    (المقاصد الحسنۃ 1/669)

الصغانی نے اسکا ذکر موضوعات میں کہا۔   (الموضوعات 1/43)

شوکانی نے اسکا ذکر موضوعات میں کیا۔  (الفوائد المجموعۃ 1/118)

محمد طاهر بن علي الصديقي الهندي الفَتَّنِي (المتوفى: 986ھ)  اسکو موضوعات میں ذکر کیا۔  (تذکرۃ الموضوعات 1/76)

ان روایات کے بارے میں محدثین کے اقوال سے ثابت ہوتا ہے کہ زیارت قبر نبویﷺ کی روایات سنداً صحیح نہیں بلکہ یہ سب ضعیف روایات ہیں۔