اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ ارضِ مقدس یعنی بیت المقدس (یروشلم) میں داخل ہوں، جو ان کے لیے اللہ نے مقدر فرمائی تھی، مگر انہوں نے بزدلی اور نافرمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکار کر دیا۔
موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ
يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا عَلَىٰ أَدْبَارِكُمْ فَتَنكَلِبُوا خَاسِرِينَ
اے میری قوم ! اِس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے اور اپنی پِیٹھ پھیرتے ہوئے پیچھے نہ ہٹنا ورنہ تم خسارہ اُٹھانے والے ہو کر پلٹو گے۔
(المائدہ: 21)
لیکن بنی اسرائیل نے جواب دیا
قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَآ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰهُنَا قٰعِدُوْنَ
انھوں نے کہا اے موسیٰ ! بے شک ہم ہرگز اِس (سر زمین) میں کبھی بھی داخل نہ ہوں گے جب تک وہ اِس میں موجود ہیں پس تم اور تمھارا ربّ جاؤ پھر دونوں لڑو بےشک ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔
(المائدہ: 24)
یہ انکار ان کے کمزور ایمان، دنیا سے محبت، اور اللہ پر عدمِ توکل کی علامت تھا۔ اس جرم کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں چالیس سال تک صحراء میں بھٹکنے کی سزا دی۔ یہ واقعہ ایمان والوں کے لیے تنبیہ ہے کہ اللہ کی نصرت صرف عمل و یقین سے ملتی ہے، بزدلی اور تاویل سے نہیں۔