فہرست

الٰہ کسے کہتے ہیں

إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ

اعوذوباللہ

قُلْ اَيُّ شَيْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِيْدٌۢ بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِيَ اِلَيَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَىِٕنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِيْ بَرِيْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ۰۰۱۹

[الأنعام: 19]

’’ پوچھو کس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے ؟ کہو ! اللہ گواہ ہے میرے اور تمہارے درمیان اور وحی کیا گیا  ہے میری طرف یہ قرآن تاکہ متنبہ کروں تمہیں اس سے اور ہر اس شخص کو جس تک یہ پہنچے، کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ ہیں معبود  اور بھی ؟ کہہ دو ! کہ نہیں دیتا میں ایسی گواہی، کہدو کہ  صحیح بات یہی ہے کہ وہی ہے معبود یکتا اور بیشک میں بیزار ہوں اس شرک سے جس میں تم مبتلا ہو‘‘۔

ہر نبی نے اپنی قوم کے سامنے یہی ایک دعوت رکھی ہے کہ اے میری قوم کے  لوگوں تمہارا الٰہ ،  اکیلا اللہ ہے اس کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں لیکن  مشرکین کو بڑا تعجب ہوتا تھا  کہ بس ایک الٰہ ، اور کوئی نہیں۔ سورہ ص میں اللہ  فرماتا ہے :

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ۰۰۵وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ يُّرَادُۖۚ۰۰۶

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ۰۰۷

( سورہ ص 5/7 )

’’اس نے تو سب معبودوں  کو ایک ہی الٰہ بنا ڈالا۔ یہ کیسی عجیب بات ہے۔ ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو، اور اپنے معبودوں پر جمے رہو، یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے جو ہم نے زمانہ قریب کے دین میں کبھی نہیں سنی۔ یہ تو بس ایک من گھڑت بات ہے۔

مشرکین کا یہی معاملہ تھا  ان کے بہت سارے الٰہ ہوتے تھے، دولت کسی سے مانگی جاتی تھی، اولاد کا سوال دوسرے سے ہوتا تھا۔ بدقسمتی سے آج بھی یہ قوم الٰہ کے معنی نہ جاننے  کیوجہ سے  اللہ کے علاوہ دوسروں کو اس منصب پر فائز کر بیٹھی ہے۔ کہیں کسی کو ’’ داتا ‘‘ یعنی ’’ دینے والا ‘‘ کہہ کر پکارا جا رہا ہے انہی کو ’’ گنج بخش  ‘‘ ( خزانے بخشنے والا ) بھی پکارا جاتا ہے۔ کہیں بابا شاہ جمال پتر دے  رتہ لال کا نعرہ لگا کر شرک کیا جا رہا ہے۔لہذا اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ الٰہ کے معنی سمجھے جائیں ۔

سورہ غافر  آیت نمبر ۶۲ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚٞ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ۰۰۶۲

’’یہی اللہ تمہارارب ہے جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، اس کے سوا کوئی الہ نہیں پھر تم کہاں بھٹک رہے ہو‘‘۔

واضح ہوا کہ الٰہ کے معنی وہ ذات کہ جس نے تمام کائنات کو تخلیق کیا۔

قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا ا۟لَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۰۰۱۵۸

( سورہ اعراف : 157)

’’(اے محمد) کہہ دو : اے انسانو ! بیشک میں رسول ہوں اللہ کا، بھیجا گیا تم سب کی طرف (اللہ وہ ہے) جسے زیب دیتی ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی۔ نہیں ہے کوئی معبود ( الٰہ ) سوائے اس کے، وہ زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی اُمّی پر وہ جو خود بھی ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور اس کے کلام پر اور پیروی کرو اس کی، تاکہ تم ہدایت پاؤ۔‘‘

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ الٰۃ کے معنی  اس ذات کے ہیں جو آسمان اور زمین کا بادشاہ یعنی مالک ہو ، جو زندگی اور موت پر قادر ہو۔ یہی بات سورہ  دخان آیت نمبر : ۸ میں بھی بیان کی گئی:

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ۰۰۸

’’ کوئی نہیں ہے  الٰہ اس کے علاوہ جوزندہ کرتا ہےاور(وہی)موت دیتاہے۔وہی تمہارااورتمہارےباپ داداکا رب ہے۔

سورہ مومن آیت نمبر ۶۵ میں فرمایا گیا :

اَللّٰهُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ۰۰۶۴هُوَ الْحَيُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۰۰۶۵

’’ اللہ ہی ہے جس نے بنایا تمہارے لئے زمین کو  تمہارے ٹہرنے کی جگہ بنائی ،  اور تمہاری صورتیں بنائیں، کیسی اچھی صورتیں، اور تمہیں پاک رزق دیا ، یہی اللہ تمہارا پالنہار ہے۔وہ زندہ و جاوید ہے (جسے موت نہیں) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو اس کی عبادت کو خالص کر کے  اسی کو پکارو۔تمام تعریفیں اور شکر اللہ  رب العالمین کے لیے ہے ‘‘۔

واضح ہوا کہ الٰہ کے معنی وہ ذات کہ جس نے انسانیت کے لئے زمین کو ٹہرنے کی جگہ بنایا، یعنی اس کے سارے انتظامات فرمائے۔ اور کیسا عظیم خالق ہے کہ اس نے اربھا انسان پیدا کئے اور سب کی علیحدہ علیحدہ بہترین صورتیں بنائیں۔ اس دنیا میں تمہاری ضروریات کی  ساری چیزیں پیدا کیں، یعنی یہی ہے تمہارا داتا، الوھاب، زندگی کی ہر چیز دینے والا۔ اور بتا دیا کہ یہ داتا وہ ہے کہ جس کبھی موت نہیں ، ہمیشہ زندہ رہنے والا  ہے۔ الٰہ یعنی جس کی عبادت کی جائے اور جس کا شکر ادا کیا جائے۔

 یہی بات سورہ طٰہٰ میں فرمائی :

’’بےشک میں ہی اللہ ہوں، میرے علاوہ کوئی الہ نہیں، تو میری عبادت کرو اور میری یاد کے لئے صلاۃ قائم کیا کرو‘‘۔

۔